اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیا
اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیا مجھ کو ایک لطف کی کر کے جو نظر چھوڑ دیا سونپ کر خانۂ دل غم کو کدھر جاتے ہو پھر نہ پاؤ گے اگر اس نے یہ گھر چھوڑ دیا اشک سوزاں نے جلائے مرے لاکھوں دامن پونچھنا میں نے تو اب دیدۂ تر چھوڑ دیا بخیہ گر جل گیا کیا ہاتھ ترا سوزش سے کرتے کرتے جو رفو چاک ...