شاعری

دھوپ سروں پر اور دامن میں سایا ہے

دھوپ سروں پر اور دامن میں سایا ہے سن تو سہی جو پیڑوں نے فرمایا ہے کیسے کہہ دوں بیچ اپنے دیوار ہے جب چھوڑنے کوئی دروازے تک آیا ہے اس سے آگے جاؤ گے تب جانیں گے منزل تک تو راستہ تم کو لایا ہے بادل بن کر چاہے کتنا اونچا ہو پانی آخر مٹی کا سرمایا ہے آخر یہ ناکام محبت کام آئی تجھ کو ...

مزید پڑھیے

کیا نظارہ تھا میری آنکھوں میں

کیا نظارہ تھا میری آنکھوں میں جب وہ سارا تھا میری آنکھوں میں ایک طوفان تھا کہیں برپا اور دھارا تھا میری آنکھوں میں حال کیسا یہ تو نے کر ڈالا کتنا پیارا تھا میری آنکھوں میں کچھ بھی دیکھا نہیں تھا میں نے جب ہر نظارہ تھا میری آنکھوں میں چاند جب تک نظر نہ آیا تھا تارا تارا تھا ...

مزید پڑھیے

کہاں دن رات میں رکھا ہوا ہوں

کہاں دن رات میں رکھا ہوا ہوں عجب حالات میں رکھا ہوا ہوں تعلق ہی نہیں ہے جن سے میرا میں ان خدشات میں رکھا ہوا ہوں کبھی آتا نہیں تھا ہاتھ اپنے اب اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہوں ذرا بھی رہ نہیں سکتا ہوں جن میں میں ان جذبات میں رکھا ہوا ہوں جلائے کس طرح یہ دھوپ مجھ کو کہیں برسات میں ...

مزید پڑھیے

جب بھی گھر کے اندر دیکھنے لگتا ہوں

جب بھی گھر کے اندر دیکھنے لگتا ہوں کھڑکی کھول کے باہر دیکھنے لگتا ہوں تنہائی میں ایسا بھی کبھی ہوتا ہے خود کو بھی میں چھو کر دیکھنے لگتا ہوں ہاتھ کوئی جب آنکھوں پر آ رکھتا ہے کیسے کیسے منظر دیکھنے لگتا ہوں پہلے دیکھتا ہوں میں کمک خیالوں کی پھر لفظوں کے لشکر دیکھنے لگتا ...

مزید پڑھیے

یہ الگ بات کہ چلتے رہے سب سے آگے

یہ الگ بات کہ چلتے رہے سب سے آگے ورنہ دیکھا ہی نہیں تیری طلب سے آگے یہ محبت ہے اسے دیکھ تماشا نہ بنا مجھ سے ملنا ہے تو مل حد ادب سے آگے یہ عجب شہر ہے کیا قہر ہے اے دل میرے سوچتا کوئی نہیں خواب طرب سے آگے اب نئے درد پس اشک رواں جاگتے ہیں ہم کہ روتے تھے کسی اور سبب سے آگے شاذؔ یوں ...

مزید پڑھیے

اتریں گہرائی میں تب خاک سے پانی آئے

اتریں گہرائی میں تب خاک سے پانی آئے سب کو اے دوست کہاں اشک فشانی آئے پھاندنی پڑ گئی کانٹوں سے بھری باڑ ہمیں جتنے پیغام تھے پھولوں کی زبانی آئے بس یہی سوچ کے کردار نبھاتے جاؤ جانے کس موڑ پہ انجام کہانی آئے ایک مدت میں خموشی سے رہا محو کلام تب کہیں جا کے یہ لفظوں میں معانی ...

مزید پڑھیے

ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتا

ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتا لیکن ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتا کیا ضعف نے شرمندہ کیا صبر کے آگے فرقت میں جو یہ بار الم اٹھ نہیں سکتا جو کعبہ میں ہے ہے وہی بت خانے میں جلوہ اک پردہ ہے سو شیخ حرم اٹھ نہیں سکتا تو ہووے خفا اور نہ در سے ترے اٹھوں سر ہی ترے قدموں کی قسم اٹھ ...

مزید پڑھیے

کس قیامت کی گھٹن طاری ہے

کس قیامت کی گھٹن طاری ہے روح پر کب سے بدن طاری ہے کون یہ سایہ فگن ہے آخر میرے سورج پہ گہن طاری ہے بات کیا اور نئی ہم سوچیں جب وہی چرخ کہن طاری ہے صرف ہم ہی تو نہیں ٹوٹے ہیں راستوں پر بھی تھکن طاری ہے شاذؔ اڑتا ہی چلا جاتا ہوں کیسی خوشبو کی لگن طاری ہے

مزید پڑھیے

سنگ کسی کے چلتے جائیں دھیان کسی کا رکھیں

سنگ کسی کے چلتے جائیں دھیان کسی کا رکھیں ہم وہ مسافر ساتھ اپنے سامان کسی کا رکھیں رنگ برنگے منظر دل میں آنکھیں خالی خالی ہم آواز کسی کو دیں امکان کسی کا رکھیں اک جیسے ہیں دکھ سکھ سب کے اک جیسی امیدیں ایک کہانی سب کی کیا عنوان کسی کا رکھیں دن بھر تو ہم پڑھتے پھریں اپنی غزلیں ...

مزید پڑھیے

ہم تجھ سے کوئی بات بھی کرنے کے نہیں تھے

ہم تجھ سے کوئی بات بھی کرنے کے نہیں تھے امکان بھی حالات سنورنے کے نہیں تھے بھر ڈالا انہیں بھی مری بے دار نظر نے جو زخم کسی طور بھی بھرنے کے نہیں تھے اے زیست ادھر دیکھ کہ ہم نے تری خاطر وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے کل رات تری یاد نے طوفاں وہ اٹھایا آنسو تھے کہ پلکوں پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 177 سے 4657