نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے
نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے بیاباں میں سمندر بس گیا ہے چمک دیوار و در کی کہہ رہی ہے کوئی اس گھر کے اندر بس گیا ہے ٹھکانہ مل گیا ہے اس کو آخر وہ میرے دل میں آ کر بس گیا ہے مہک اٹھا تصور کا جہاں بھی کوئی خوشبو کا پیکر بس گیا ہے جو تنہائی کے صحرا کا مکیں تھا زماںؔ آج اس کا بھی گھر بس ...