شاعری

نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے

نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے بیاباں میں سمندر بس گیا ہے چمک دیوار و در کی کہہ رہی ہے کوئی اس گھر کے اندر بس گیا ہے ٹھکانہ مل گیا ہے اس کو آخر وہ میرے دل میں آ کر بس گیا ہے مہک اٹھا تصور کا جہاں بھی کوئی خوشبو کا پیکر بس گیا ہے جو تنہائی کے صحرا کا مکیں تھا زماںؔ آج اس کا بھی گھر بس ...

مزید پڑھیے

خواب ستارے ہوتے ہوں گے لیکن آنکھیں ریت

خواب ستارے ہوتے ہوں گے لیکن آنکھیں ریت دن دریاؤں کے ہمجولی ہیں اور راتیں ریت ایک فقیر نے میری جانب دیکھا اور پھر میں مٹی کی ڈھیری کی صورت تھا اور سانسیں ریت میں سرسبز جزیرے جیسا تھا پر دشت ہوا اس نے مجھ سے اتنا کہا تھا تیری باتیں ریت موتی ٹوٹنے لگتے ہیں جب پتھر بات کریں آئینوں ...

مزید پڑھیے

کبھی ذلت کبھی رسوائی نہیں دیکھی ہے

کبھی ذلت کبھی رسوائی نہیں دیکھی ہے عشق والوں نے تو پسپائی نہیں دیکھی ہے حسن یوسف کے مجھے قصے سنانے والے تو نے چاہت یہ زلیخائی نہیں دیکھی ہے اس نے چہرے پہ قصیدے تو بہت لکھے ہیں لیکن اس دل پہ جمی کائی نہیں دیکھی ہے مل کے بانٹا تھا اثاثہ جو کبھی بھائیوں نے ساتھ کھیلی تھی جو ماں ...

مزید پڑھیے

ہائے وہ عشق وہ جذبہ وہ لگاؤ پہلا

ہائے وہ عشق وہ جذبہ وہ لگاؤ پہلا اب کہاں عشق کے دریا میں بہاؤ پہلا جس طرح بچہ کوئی پہلا کھلونا رکھے میرے معصوم دنوں کا ہے تو چاؤ پہلا یاد ہیں آج بھی وہ حیلے بہانے لیکن بھول پائی نہ تری آنکھ کا داؤ پہلا اب تو ممکن ہی نہیں لوٹ کے واپس آؤں لاکھ باتوں میں مجھے پیار جتاؤ پہلا فیض کا ...

مزید پڑھیے

اپنے تو رات دن یہاں ایسے بسر ہوئے

اپنے تو رات دن یہاں ایسے بسر ہوئے جیسے کسی غریب کے شام و سحر ہوئے امرت نگر کی خاک کو آنکھوں سے چوم کر مجھ شاعرہ کے حرف بھی کچھ معتبر ہوئے تو ساتھ تھا تو آسماں تھے اختیار میں تو جا چکا تو بے صدا بے بال و پر ہوئے کہنے کو ایک شخص تھا جو اب نہیں رہا کیسے تمہارے شہر میں ہم دیدہ ور ...

مزید پڑھیے

اس کی نظر میں پنہاں محبت پہ رائے دو

اس کی نظر میں پنہاں محبت پہ رائے دو پھر شہر کم نگہ کی بصارت پہ رائے دو میں نے کہا کہ آپ کے چرچے ہیں چار سو اس نے کہا نہیں مری شہرت پہ رائے دو جس کو تمہاری یاد نے پتھر بنا دیا پلکیں اٹھاؤ اس کی شباہت پہ رائے دو اپنے وظیفے یاد ہی ہوں گے تمہیں مگر میری وفا کی پہلی تلاوت پہ رائے ...

مزید پڑھیے

خاک اوڑھے ہوئے اک خواب کی تعبیر کا دکھ

خاک اوڑھے ہوئے اک خواب کی تعبیر کا دکھ اس کو کھا جائے گا اک دن میری تشہیر کا دکھ تم نے زنداں میں فقط میری اسیری دیکھی اب دلا دیکھ ذرا پاؤں کی زنجیر کا دکھ جس نے کاٹا ہے جوانی میں بڑھاپے کا سفر آ بتاتی ہوں تجھے ہائے مرے ویر کا دکھ وقت رخصت وہ جو پلکوں میں چھپایا تم نے دل میں اب تک ...

مزید پڑھیے

ہم نے تو شرافت میں ہر چیز گنوا دی ہے

ہم نے تو شرافت میں ہر چیز گنوا دی ہے دنیا کا کبھی غم تھا اب موت کی شادی ہے سب زخم ہوئے تازہ یادوں سے الجھتے ہی بجھتے ہوئے شعلوں کو یہ کس نے ہوا دی ہے اک بار کہا ہوتا ہم آپ ہی مر جاتے تم نے تو ہمیں ساقی نظروں سے پلا دی ہے تنہائی مقدر ہے میرا بھی تمہارا بھی اس دور میں جینے کی کیا خوب ...

مزید پڑھیے

آپ نے ہاتھ رکھا مرے ہات پر

آپ نے ہاتھ رکھا مرے ہات پر پھر گیا سارا الزام برسات پر آگ ساون نے ساری لگائی یہاں ترس کھائی نہ کچھ اس نے حالات پر وہ مرا امتحاں لیں گے ہرگز نہیں جان دے دیں گے ہم ان کی اک بات پر مہرباں وہ ہوئے جب گھڑی دو گھڑی ہم نے غزلیں کہیں چاندنی رات پر جیت کر بھی اسے اس قدر رنج ہے وہ پشیمان ...

مزید پڑھیے

اب تو یہ بھی ہونے لگا ہے ہم میں ان میں بات نہیں

اب تو یہ بھی ہونے لگا ہے ہم میں ان میں بات نہیں دنیا والے پوچھتے ہیں کیا پہلے سے حالات نہیں ایک اگر ہو عشق کی بازی تو پھر کوئی بات نہیں کون سا ایسا کھیل ہے جس میں ہم نے کھائی مات نہیں آنکھ سے آنسو بن کے بہیں جو ایسے سب جذبات نہیں دل کا زخم چھپا کے جینا سب کے بس کی بات نہیں دن تو دن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 172 سے 4657