شاعری

نگاہ شوق کو رخ پر نثار ہونے دو

نگاہ شوق کو رخ پر نثار ہونے دو یہ رنگ لائے گی کیا کیا بہار ہونے دو رہین جذبۂ بے اختیار ہونے دو جو ہو رہا ہے کوئی بے قرار ہونے دو دل حزیں کو مرے جلوہ زار ہونے دو خزاں نصیب چمن میں بہار ہونے دو دل فراق زدہ میں قرار ہونے دو دم اجل تو نگاہوں کو چار ہونے دو کرشمے دیکھنا مر مر کے جینے ...

مزید پڑھیے

اے مری جان آرزو مانع التفات کیا

اے مری جان آرزو مانع التفات کیا ہوگا نہ وقف دل کبھی کیف تبسمات کیا مست نظر اگر نہیں ساغر دل میں بادہ ریز بزم نوازشات کیا دور توجہات کیا کب سے ہیں رند منتظر چشم کرم پہ ہے نظر شوخ نگاہ کے لیے وجہ تکلفات کیا ڈھونڈتی پھرتی ہے نظر شاہد بزم ناز کو اس کو مگر خبر نہیں کیف تصورات ...

مزید پڑھیے

ضبط غم مشکل ہے اور مشکل ہے مشکل کا جواب

ضبط غم مشکل ہے اور مشکل ہے مشکل کا جواب ناصح مشفق ترے بس کا نہیں دل کا جواب آئنہ میں دیکھتے ہیں حسن کامل کا جواب کوئی پوچھے کیا وہ دیں گے جذبۂ دل کا جواب الوداع کہہ کر جو دیتے ہیں مرے دل کا جواب آ پڑی مشکل کہ کیا ہو ایسی مشکل کا جواب خاک پروانہ ہو شاید ضبط کامل کا جواب شمع ہو ...

مزید پڑھیے

دل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں

دل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں چھوڑے ہوئے تیروں کا اثر دیکھ رہے ہیں ہر روز جفائیں ہیں نئی اور نیا غم سو سو طرح عاشق کا جگر دیکھ رہے ہیں ہر لمحہ زمانے کا ہے ہنگامہ بہ دامن پیدا ہے قیامت کا اثر دیکھ رہے ہیں اے گردش دوراں ترے جاں سوز نظارے دیکھے نہیں جاتے ہیں مگر دیکھ رہے ...

مزید پڑھیے

آسودۂ محفل ابھی دم بھر نہ ہوا تھا

آسودۂ محفل ابھی دم بھر نہ ہوا تھا وہ کون سا تھا وار جو مجھ پر نہ ہوا تھا چشم ستم ایجاد کی وسعت کے مقابل یہ تیغ تو کیا چرخ ستم گر نہ ہوا تھا پلکوں ہی پہ تڑپا وہ مرے سوز دروں سے جو اشک ابھی بڑھ کے سمندر نہ ہوا تھا جب تک کہ نہ دیکھی تھی نگاہوں کی کرامت میں منحرف بادہ و ساغر نہ ہوا ...

مزید پڑھیے

کیوں وہ محبوب رو بہ رو نہ رہے

کیوں وہ محبوب رو بہ رو نہ رہے کیوں نگاہوں میں گفتگو نہ رہے عشق ہے منتہائے محویت آرزو کی بھی آرزو نہ رہے زندگی یہ کہ وہ تجھے چاہیں موت ہے یہ کہ آبرو نہ رہے بندگی ہے سپردگئ تمام ان کی مرضی میں گفتگو نہ رہے تم جو بیٹھے ہو چھپ کے پردوں میں چشم کیوں محو رنگ و بو نہ رہے دل کا ہر بار ...

مزید پڑھیے

خود اپنی سوچ کے پنچھی نہ اپنے بس میں رہے

خود اپنی سوچ کے پنچھی نہ اپنے بس میں رہے کھلی فضا کی تمنا تھی اور قفس میں رہے بچھڑ کے مجھ سے عذاب ان پہ بھی بہت گزرے وہ مطمئن نہ کسی پل کسی برس میں رہے میں ایک عمر سے ان کو تلاش کرتا ہوں کچھ ایسے لمحے تھے جو اپنی دسترس میں رہے لہو کا ذائقہ کڑوا سا لگ رہا ہے مجھے میں چاہتا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

میں رتجگوں کے مکمل عذاب دیکھوں گا

میں رتجگوں کے مکمل عذاب دیکھوں گا کسی نے جو نہیں دیکھے وہ خواب دیکھوں گا وہ وقت آئے گا میری حیات میں جب میں محبتوں کے چمن میں گلاب دیکھوں گا گھرا ہوا ہوں اندھیروں میں غم نہیں مجھ کو شب سیاہ کے بعد آفتاب دیکھوں گا چلیں گے تیز بہت تیری یاد کے جھونکے میں اپنی آنکھ میں جب سیل آب ...

مزید پڑھیے

پر ہول جنگلوں کی صدا میرے ساتھ ہے

پر ہول جنگلوں کی صدا میرے ساتھ ہے میں جس طرف بھی جاؤں ہوا میرے ساتھ ہے دنیا میں آج مجھ کو بلاؤں کا ڈر نہیں ہر لمحہ میری ماں کی دعا میرے ساتھ ہے دشوار راستوں میں حفاظت کرے گا وہ میں مطمئن ہوں میرا خدا میرے ساتھ ہے برسے گی آج دل کی زمیں پر یہ ٹوٹ کر گویا زمانؔ غم کی گھٹا میرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

تری یادوں نے تنہا کر دیا ہے

تری یادوں نے تنہا کر دیا ہے مجھے اندر سے صحرا کر دیا ہے خفا ہو کر شعاع مہر نے بھی مرے آنگن کو سونا کر دیا ہے سیاہی کس کی نظروں میں بھری ہے دلوں کو کس نے کالا کر دیا ہے یہ کس نے آئینوں پر گرد پھینکی ہر اک منظر کو دھندلا کر دیا ہے کسی بھی شاخ پر پتا نہیں ہے ہوا نے سب کو ننگا کر دیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 171 سے 4657