نگاہ شوق کو رخ پر نثار ہونے دو
نگاہ شوق کو رخ پر نثار ہونے دو یہ رنگ لائے گی کیا کیا بہار ہونے دو رہین جذبۂ بے اختیار ہونے دو جو ہو رہا ہے کوئی بے قرار ہونے دو دل حزیں کو مرے جلوہ زار ہونے دو خزاں نصیب چمن میں بہار ہونے دو دل فراق زدہ میں قرار ہونے دو دم اجل تو نگاہوں کو چار ہونے دو کرشمے دیکھنا مر مر کے جینے ...