میں کناروں کو رلانے لگا ہوں
میں کناروں کو رلانے لگا ہوں پھول دریا میں بہانے لگا ہوں کھیل کو ختم کرو جلدی سے ورنہ میں پردہ گرانے لگا ہوں دل سے جاؤں تو بتانا مجھ کو تیری محفل سے تو جانے لگا ہوں یوں لگی مجھ کو محبت تیری جیسے میں بوجھ اٹھانے لگا ہوں پہلے میں اپنا اڑاتا تھا مذاق اور اب خاک اڑانے لگا ہوں کتنی ...