شاعری

میں کناروں کو رلانے لگا ہوں

میں کناروں کو رلانے لگا ہوں پھول دریا میں بہانے لگا ہوں کھیل کو ختم کرو جلدی سے ورنہ میں پردہ گرانے لگا ہوں دل سے جاؤں تو بتانا مجھ کو تیری محفل سے تو جانے لگا ہوں یوں لگی مجھ کو محبت تیری جیسے میں بوجھ اٹھانے لگا ہوں پہلے میں اپنا اڑاتا تھا مذاق اور اب خاک اڑانے لگا ہوں کتنی ...

مزید پڑھیے

کسی منظر کے پس منظر میں جا کر

کسی منظر کے پس منظر میں جا کر چلو دیکھیں کسی پتھر میں جا کر گھنے جنگل نے مجھ پر راز کھولا نکل جاتا ہے ہر ڈر ڈر میں جا کر خود اپنی ذات ہو جاتی ہے معدوم خود اپنی ذات کے جوہر میں جا کر مرے دل کی تمنا بن گیا ہے وہ چہرہ میری چشم تر میں جا کر سمٹ جاتے ہیں میرے ساتھ مجھ میں مرے پاؤں مری ...

مزید پڑھیے

عاجزی کو چلن کیے ہوئے ہیں

عاجزی کو چلن کیے ہوئے ہیں خاک اپنا بدن کئے ہوئے ہوں ہجر اک مستقل لباس مرا جس کو میں زیب تن کیے ہوئے ہوں چند آنسو مرا اثاثہ ہیں جن کو میں وقف فن کیے ہوئے ہوں آبلے اگ رہے ہیں پاؤں میں دشت سرو سمن کیے ہوئے ہوں گھر میں رہ کر بھی گھر نہیں رہتا خود کو یوں بے وطن کیے ہوئے ہوں موت سے ...

مزید پڑھیے

اتنی سی زندگی بھی ہے کتنی گراں مجھے

اتنی سی زندگی بھی ہے کتنی گراں مجھے دینا ہے گام گام ابھی امتحاں مجھے رستے میں تار تار بکھیر آئے تھے جسے لوٹے ہے شام شام وہی داستاں مجھے اچھا ہوا کہ جل گئی تنکوں کی کائنات اب تو نہ دیں گی طعنہ کبھی بجلیاں مجھے حسن فریب میرا مزاج سخن نہیں رکھیو معاف اس سے مگر دوستاں مجھے آپ آ ...

مزید پڑھیے

دل حزیں کو نہ معلوم کیوں قرار نہیں

دل حزیں کو نہ معلوم کیوں قرار نہیں نگاہ شوق تو پابند اعتبار نہیں یہ چند روزہ بہاریں سدا بہار نہیں کہ ڈھلتی چھاؤں کا اے دوست اعتبار نہیں بدلتے رہتے ہیں یہ رنگ آسماں کی طرح نظر فروش سہاروں کا اعتبار نہیں تری نگاہ کے صدقے میں اب وہاں ہوں جہاں کوئی رفیق نہیں کوئی غم گسار ...

مزید پڑھیے

لذت احساس غم سے دل کو بہلاتے رہے

لذت احساس غم سے دل کو بہلاتے رہے کچھ ادھورے خواب تھے رہ رہ کے یاد آتے رہے منزل غربت میں پیچھے رہ گئے ہشیار لوگ ہم دوانے تھے بگولوں میں بھی اتراتے رہے لٹنے والوں سے مزاج شام غربت پوچھئے ان کو کیا معلوم جو طوفاں سے کتراتے رہے رسم و راہ نو بہاراں کس قدر دلچسپ ہے کچھ کلی کھلتی رہی ...

مزید پڑھیے

مجھے راس آ گئی ہے یہی حالت پریشاں

مجھے راس آ گئی ہے یہی حالت پریشاں کبھی شام شام بجلی کبھی گام گام طوفاں مری شام گل بداماں مری شب شب چراغاں ترے دم قدم سے کیا کیا ہے فروغ آہ سوزاں میں جہاں جہاں بھی ٹھہرا شب تار کے سہارے وہی رقص آہواں تھا سر دامن بیاباں دل زار دے سنبھالا کہ رہ وفا کٹھن ہے کہیں رہ گزر کے کانٹے مجھے ...

مزید پڑھیے

الزام بتا کون مرے سر نہیں آیا

الزام بتا کون مرے سر نہیں آیا حصے میں مرے کون سا پتھر نہیں آیا ہم جو بھی ہوئے ہیں بڑی محنت سے ہوئے ہیں کام اپنے کبھی اپنا مقدر نہیں آیا کچھ اور نہیں بس یہ تو مٹی کا اثر ہے ظالم کو کبھی کہنا ہنر ور نہیں آیا دل کا سبھی دروازہ کھلا رکھا ہے میں نے پر اس کو نہ آنا تھا ستم گر نہیں ...

مزید پڑھیے

کون کہتا تھا کہ یہ بھی حوصلہ ہو جائے گا

کون کہتا تھا کہ یہ بھی حوصلہ ہو جائے گا میرؔ و غالبؔ سے ہمارا سلسلہ ہو جائے گا ہم چلے ہیں کوچۂ قاتل کو یہ سوچے بغیر تم نہ آؤ ساتھ تب بھی قافلہ ہو جائے گا جس قلندر نے رکھا ٹھوکر میں تخت و تاج کو وہ ذرا سا سر ہلا دے زلزلہ ہو جائے گا بد دعاؤں نے مجھے محفوظ رکھا آج تک تم دعا دینے لگے ...

مزید پڑھیے

وہ جن کو خوب تھا اپنے ہنر کا اندازہ

وہ جن کو خوب تھا اپنے ہنر کا اندازہ ہے اپنی مات کی ان کو خبر کا اندازہ نہ ہو فریق کوئی سامنے تو ہو کیسے کسی فریق کو اپنے ہنر کا اندازہ انہیں ہے زعم کہ ہم کو اسیر کر دیں گے مگر غلط ہے کسی بے خبر کا اندازہ ہمیں ڈرائے گا کیسے سفر سمندر کا کہ ہم تو کر بھی چکے ہیں بھنور کا اندازہ وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 173 سے 4657