زندگانی کی حقیقت تب ہی کھلتی ہے میاں
زندگانی کی حقیقت تب ہی کھلتی ہے میاں کار زار زیست کی جب نبض رکتی ہے میاں روز ہم تعمیر کرتے ہیں فصیل جسم و جاں روز جسم و جاں سے کوئی اینٹ گرتی ہے میاں خواب سے کہہ دو حدود چشم سے باہر نہ ہو آنکھ سے اوجھل ہر اک تعبیر چبھتی ہے میاں کل یہی چہرے بہار حسن کی پہچان تھے آج ان چہروں سے گرد ...