شاعری

راستے میں کہیں کھونا ہی تو ہے

راستے میں کہیں کھونا ہی تو ہے پاؤں کیوں روکوں کہ دریا ہی تو ہے کون قاتل ہے یہاں بسمل کون قتل ہو لے کہ تماشا ہی تو ہے وہ چمکتی ہوئی موجیں ہیں کہاں اس طرف بھی وہی صحرا ہی تو ہے مرگ و ہستی میں بہت فرق ہے کیا دفن کر دو اسے زندہ ہی تو ہے نارسائی کا اٹھا رنج نہ زیبؔ حاصل زیست کہ دھوکا ...

مزید پڑھیے

ٹھہرا وہی نایاب کہ دامن میں نہیں تھا

ٹھہرا وہی نایاب کہ دامن میں نہیں تھا جو پھول چنا میں نے وہ گلشن میں نہیں تھا تھی موج لپکتی ہوئی میرے ہی لہو کی چہرہ کوئی دیوار کے روزن میں نہیں تھا خاکستر جاں کو مری مہکائے تھا لیکن جوہی کا وہ پودا مرے آنگن میں نہیں تھا آخر میں ہدف اپنا بناتا بھی تو کس کو میرا کوئی دشمن صف دشمن ...

مزید پڑھیے

بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے

بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے میں بھی چپ تھا کہ چلو سینے میں خنجر ہی تو ہے دھو کے تو میرا لہو اپنے ہنر کو نہ چھپا کہ یہ سرخی تری شمشیر کا جوہر ہی تو ہے راہ نکلی تو کوئی توڑ کے چٹانوں کو سامنے تیرہ و تاریک سمندر ہی تو ہے ساتھ ہوں میں بھی کہ دل کی یہی مرضی ہے مگر دشت بھی ...

مزید پڑھیے

اجڑی ہوئی بستی کی صبح و شام ہی کیا

اجڑی ہوئی بستی کی صبح و شام ہی کیا خاک اڑانے والوں کا انجام ہی کیا پاس سے ہو کر یوں ہی گزر جاتی ہے صبا دیوانے کے نام کوئی پیغام ہی کیا جو بھی تمہارے جی میں آئے کہہ ڈالو ہم مستانے لوگ ہمارا نام ہی کیا دور مے و ساغر بھی اپنے شباب پہ ہے گردش میں ہے چرخ نیلی فام ہی کیا زیبؔ کے مر ...

مزید پڑھیے

بجھتے سورج نے لیا پھر یہ سنبھالا کیسا

بجھتے سورج نے لیا پھر یہ سنبھالا کیسا اڑتی چڑیوں کے پروں پر ہے اجالا کیسا تم نے بھی دیکھا کہ مجھ کو ہی ہوا تھا محسوس گرد اس کے رخ روشن کے تھا ہالا کیسا چھٹ گیا جب مری نظروں سے ستاروں کا غبار شوق رفتار نے پھر پاؤں نکالا کیسا کس نے صحرا میں مرے واسطے رکھی ہے یہ چھاؤں دھوپ روکے ہے ...

مزید پڑھیے

رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی

رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی کھلے ہوئے صحرا کے ہاتھ پہ نیلم سی اپنی جگہ ساحل سا ٹھہرا غم تیرا دل کے دریا میں اک ہلچل پیہم سی لمبی رات گزر جائے تعبیروں میں اس کا پیکر ایک کہانی مبہم سی اپنی لگاوٹ کو وہ چھپانا جانتا ہے آگ اتنی ہے اور ٹھنڈک ہے شبنم سی میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا ...

مزید پڑھیے

بھڑکتی آگ ہے شعلوں میں ہاتھ ڈالے کون

بھڑکتی آگ ہے شعلوں میں ہاتھ ڈالے کون بچا ہی کیا ہے مری خاک کو نکالے کون تو دوست ہے تو زباں سے کوئی قرار نہ کر نہ جانے تجھ کو کسی وقت آزما لے کون لہو میں تیرتا پھرتا ہے میرا خستہ بدن میں ڈوب جاؤں تو زخموں کو دیکھے بھالے کون گہر لگے تھے خنک انگلیوں کے زخم مجھے اب اس اتھاہ سمندر کو ...

مزید پڑھیے

تو پشیماں نہ ہو میں شاد ہوں ناشاد نہیں

تو پشیماں نہ ہو میں شاد ہوں ناشاد نہیں زندگی تیرا کرم ہے تری بیداد نہیں وہ صنم خانۂ دل ہو کہ گزر گاہ خیال میں نے تجھ کو کہیں دیکھا ہے مگر یاد نہیں دیکھ اے خاک پریشانیٔ خاطر میری تو نے سمجھا تھا کہ تجھ سا کوئی برباد نہیں ڈھونڈتی پھرتی ہیں جانے مری نظریں کس کو ایسی بستی میں جہاں ...

مزید پڑھیے

گرم لہو کا سونا بھی ہے سرسوں کی اجیالی میں

گرم لہو کا سونا بھی ہے سرسوں کی اجیالی میں دھوپ کی جوت جگانے والے سورج گھول پیالی میں ایک سراپا محرومی کا نقشہ تو نے کھینچ دیا تلخی کی زہراب چمک بھی ہے کچھ چشم سوالی میں رشتہ بھی ہے نشو و نما کا فرق بھی روشن لمحوں کا سبز سراپا شاخ بدن اور جنگل کی ہریالی میں لرزش بھی ہے سطح فلک ...

مزید پڑھیے

ڈھلا نہ سنگ کے پیکر میں یار کس کا تھا

ڈھلا نہ سنگ کے پیکر میں یار کس کا تھا وہ ایک عکس چٹانوں کے پار کس کا تھا زمیں پڑی رہی بے ساز و برگ کس کی تھی کہیں برس گیا ابر بہار کس کا تھا ہوائیں لے اڑیں نقش کمال کا نیرنگ نہ جانے خاک پہ وہ شاہکار کس کا تھا کہیں پتہ نہ لگا پھر وجود کا میرے اٹھا کے لے گئی دنیا شکار کس کا تھا نفس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 159 سے 4657