رنگ غزل میں دل کا لہو بھی شامل ہو
رنگ غزل میں دل کا لہو بھی شامل ہو خنجر جیسا بھی ہو لیکن قاتل ہو اس تصویر کا آب و رنگ نہیں بدلا جانے کب یہ دل کا نقش بھی باطل ہو شور فغاں پر اتنی بے چینی کیسی تم سے کیا تم کون کسی کے قاتل ہو دیکھ کبھی آ کر یہ لا محدود فضا تو بھی میری تنہائی میں شامل ہو میں کہ ہوں ایک تھکا ہارا اور ...