شاعری

رنگ غزل میں دل کا لہو بھی شامل ہو

رنگ غزل میں دل کا لہو بھی شامل ہو خنجر جیسا بھی ہو لیکن قاتل ہو اس تصویر کا آب و رنگ نہیں بدلا جانے کب یہ دل کا نقش بھی باطل ہو شور فغاں پر اتنی بے چینی کیسی تم سے کیا تم کون کسی کے قاتل ہو دیکھ کبھی آ کر یہ لا محدود فضا تو بھی میری تنہائی میں شامل ہو میں کہ ہوں ایک تھکا ہارا اور ...

مزید پڑھیے

اک پیلی چمکیلی چڑیا کالی آنکھ نشیلی سی

اک پیلی چمکیلی چڑیا کالی آنکھ نشیلی سی بیٹھی ہے دریا کے کنارے میری طرح اکیلی سی جب میں نشیب رنگ و بو میں اترا اس کی یاد کے ساتھ اوس میں بھیگی دھوپ لگی ہے نرم ہری لچکیلی سی کس کو خبر میں کس رستے کی دھول بنوں یا پھول بنوں کیا جانے کیا رنگ دکھائے اس کی آنکھ پہیلی سی تیز ہوا کی دھار ...

مزید پڑھیے

ہو چکے گم سارے خد و خال منظر اور میں

ہو چکے گم سارے خد و خال منظر اور میں پھر ہوئے ایک آسماں ساحل سمندر اور میں ایک حرف راز دل پر آئنہ ہوتا ہوا اک کہر چھائی ہوئی منظر بہ منظر اور میں چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں کس قدر اک دوسرے سے لگتے ہیں مانوس زیبؔ ناریل کے پیڑ یہ ساحل کے ...

مزید پڑھیے

ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی

ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی دل کے بجھنے سے دنیا تاریک نہیں ہوتی جیسے اپنے ہاتھ اٹھا کر گھٹا کو چھو لوں گا لگتا ہے یہ زلف مگر نزدیک نہیں ہوتی تیرا بدن تلوار سہی کس کو ہے جان عزیز اب ایسی بھی دھار اس کی باریک نہیں ہوتی شعر تو مجھ سے تیری آنکھیں کہلا لیتی ہیں چپ رہتا ہوں ...

مزید پڑھیے

میرا نشاں بھی ڈھونڈھ غبار ماہ و اختر میں

میرا نشاں بھی ڈھونڈھ غبار ماہ و اختر میں کچھ منظر میں نے بھی بنائے بنائے ہیں منظر میں پوچھو تو زخموں کا حوالہ دینا مشکل ہے اتنی بے ترتیبی سی ہے دل کے دفتر میں وہ موجوں کی تیشہ زنی سے گونجتی چٹانیں وہ پتھر سی رات کا ڈھلنا چاند کے پیکر میں اتنا یاد ہے جب میں چلا تھا سوئے دشت ...

مزید پڑھیے

مرنے کا سکھ جینے کی آسانی دے

مرنے کا سکھ جینے کی آسانی دے انداتا کیسا ہے آگ نہ پانی دے اس دھرتی پر ہریالی کی جوت جگا کالے میگھا پانی دے گردانی دے بند افلاک کی دیواروں میں روزن کر کوئی تو منظر مجھ کو امکانی دے میرے دل پر کھول کتابوں کے اسرار میری آنکھ کو اپنی صاف نشانی دے ارض و سما کے پس منظر سے سامنے آ دل ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی در نہ ملا نارسی کے مرقد میں

کوئی بھی در نہ ملا نارسی کے مرقد میں میں گھٹ کے مر گیا اپنی صدا کے گنبد میں غبار فکر چھٹا جب تو دیکھتا کیا ہوں ابھی کھڑا ہوں میں حرف و نوا کی سرحد میں مرے حریفوں پہ بے وجہ خوف غالب ہے ہے کون میرے سوا میرے وار کی زد میں کوئی خبر ہی نہ تھی مرگ جستجو کی مجھے زمیں پھلانگ گیا اپنے شوق ...

مزید پڑھیے

اور گلوں کا کام نہیں ہوتا کوئی

اور گلوں کا کام نہیں ہوتا کوئی خوشبو کا انعام نہیں ہوتا کوئی تھک گیا ایک کہانی سنتے سنتے میں کیا اس کا انجام نہیں ہوتا کوئی صحراؤں میں خاک اڑاتا پھرتا ہوں اس کے علاوہ کام نہیں ہوتا کوئی دیکھو تو کیا خوش رہتے ہیں دل والے پوچھو تو آرام نہیں ہوتا کوئی چٹانیں بس سخت ہوا کرتی ہیں ...

مزید پڑھیے

جھکے ہوئے پیڑوں کے تنوں پر چھاپ ہے چنچل دھارے کی

جھکے ہوئے پیڑوں کے تنوں پر چھاپ ہے چنچل دھارے کی ہولے ہولے ڈول رہی ہے گھاس ندی کے کنارے کی کسی ہوئی مردنگ سا پانی ہوا کی تھاپ سے بجتا ہے لہر ترنگ سے اٹھتی ہے جھنکار کسی اکتارے کی کھلی فضا میں نکلے تو زنگ یکسانی دور ہوا ایک ہوا کے جھونکے نے رنگت بدلی انگارے کی ابر کی تہہ میں ...

مزید پڑھیے

بجھ کر بھی شعلہ دام ہوا میں اسیر ہے

بجھ کر بھی شعلہ دام ہوا میں اسیر ہے قائم ابھی فضا میں دھوئیں کی لکیر ہے گزرا ہوں اس کے در سے تو کچھ مانگ لوں مگر کشکول بے طلب ہے صدا بے فقیر ہے جو چاہے اچھے داموں میں اس کو خرید لے وہ آدمی برا نہیں پر بے ضمیر ہے دل پر لگی ہے سب کے وہی مہر برف کی ظاہر میں گرم جوشیٔ دست سفیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 158 سے 4657