شاعری

راحت وصل بنا ہجر کی شدت کے بغیر

راحت وصل بنا ہجر کی شدت کے بغیر زندگی کیسے بسر ہوگی محبت کے بغیر اب کے یہ سوچ کے بیمار پڑے ہیں کہ ہمیں ٹھیک ہونا ہی نہیں تیری عیادت کے بغیر عشق کے ماروں کو آداب کہاں آتے ہیں تیرے کوچے میں چلے آئے اجازت کے بغیر ہم سے پوچھو تو کہ ہم کیسے ہیں اے ہم وطنو اپنے یاروں کے بنا اپنی محبت ...

مزید پڑھیے

اس کو جاتے ہوئے دیکھا تھا پکارا تھا کہاں

اس کو جاتے ہوئے دیکھا تھا پکارا تھا کہاں روکتے کس طرح وہ شخص ہمارا تھا کہاں تھی کہاں ربط میں اس کے بھی کمی کوئی مگر میں اسے پیارا تھا پر جان سے پیارا تھا کہاں بے سبب ہی نہیں مرجھائے تھے جذبوں کے گلاب تو نے چھو کر غم ہستی کو نکھارا تھا کہاں بیچ منجھدار میں تھے اس لیے ہم پار ...

مزید پڑھیے

لہر لہر کیا جگ مگ جگ مگ ہوتی ہے

لہر لہر کیا جگ مگ جگ مگ ہوتی ہے جھیل بھی کوئی رنگ بدلتا موتی ہے کاوا کاٹ کے اوپر اٹھتی ہیں قازیں گن گن گن گن پروں کی گنجن ہوتی ہے چڑھتا ہوا پرواز کا نشہ ہے اور میں تیز ہوا رہ رہ کر ڈنک چبھوتی ہے گہرے سناٹے میں شور ہواؤں کا تاریکی سورج کی لاش پہ روتی ہے دیکھو اس بے حس ناگن کو ...

مزید پڑھیے

میں عکس آرزو تھا ہوا لے گئی مجھے

میں عکس آرزو تھا ہوا لے گئی مجھے زندان آب و گل سے چھڑا لے گئی مجھے کیا بچ رہا تھا جس کا تماشا وہ دیکھتا دامن میں اپنے خاک چھپا لے گئی مجھے کچھ دور تک تو چمکی تھی میرے لہو کی دھار پھر رات اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے جز تیرگی نہ ہاتھ لگا اس کا کچھ سراغ کن منزلوں سے گرد نوا لے گئی ...

مزید پڑھیے

جنون عشق سر بیدار بھی ہے

جنون عشق سر بیدار بھی ہے غرور بادۂ سرشار بھی ہے خیال طرہ شب رنگ مجھ کو کبھی اک سایۂ دیوار بھی ہے مجھے تسلیم یہ گردوں رکابی بلندی اک فراز دار بھی ہے یہ عصر نو کا شوق چارہ سازی پئے درماں غم بیمار بھی ہے تمیز خار و گل دستور گلچیں نگاہ باغباں میں خار بھی ہے چمن میں کھل گئیں نرگس ...

مزید پڑھیے

اسی در سے اسی دیوار سے آگے نہیں بڑھتا

اسی در سے اسی دیوار سے آگے نہیں بڑھتا یہ کیسا پیار ہے جو پیار سے آگے نہیں بڑھتا ہماری خواہشیں اظہار کی حد تک نہیں جاتیں ہمارا حوصلہ دیدار سے آگے نہیں بڑھتا ہماری زندگی میں ایک سستی سی مسلسل ہے ہمارا خون اس رفتار سے آگے نہیں بڑھتا کسی کے ہاتھ سے پی کر کسی کو بھول جاتے ہیں ہمارا ...

مزید پڑھیے

دور بھی جاتے ہوئے پاس بھی آتے ہوئے ہم

دور بھی جاتے ہوئے پاس بھی آتے ہوئے ہم بھولتے بھولتے کچھ یاد دلاتے ہوئے ہم نیند کا اس کو نشہ ہم کو جگانے کی ہوس خواب میں آتے ہوئے نیند چراتے ہوئے ہم پہلے روتے ہوئے اپنی ہی نگہبانی میں اور بے ساختہ پھر خود کو ہنساتے ہوئے ہم پچھلی شب پونچھتے آنکھوں سے پرانے سبھی خواب اگلی شب ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ ترے چہرے پہ بکھرتی ہوئی شام

ریزہ ریزہ ترے چہرے پہ بکھرتی ہوئی شام قطرہ قطرہ مری پلکوں پہ اترتی ہوئی شام لمحہ لمحہ مرے ہاتھوں سے سرکتا ہوا دن اور آسیب زدہ دل میں اترتی ہوئی شام صبح کا خواب مگر خواب عجب جاں لیوا میرے پہلو میں سسکتی ہوئی مرتی ہوئی شام ساتھ ساحل پہ گزرتے ہوئے دیکھی تھی کبھی یاد ہے اب بھی ...

مزید پڑھیے

مراد شکوہ نہیں لطف گفتگو کے سوا

مراد شکوہ نہیں لطف گفتگو کے سوا بچا ہے پیرہن جاں میں کیا رفو کے سوا ہوا چلی تھی ہر اک سمت اس کو پانے کی نہ کچھ بھی ہاتھ لگا گرد جستجو کے سوا کسی کی یاد مجھے بار بار کیوں آئی اس ایک پھول میں کیا شے تھی رنگ و بو کے سوا ابھرتا رہتا ہے اس خاک دل پہ نقش کوئی اب اس نواح میں کچھ بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

نقش تصویر نہ وہ سنگ کا پیکر کوئی

نقش تصویر نہ وہ سنگ کا پیکر کوئی اس کو جب دیکھو بدل جاتا ہے منظر کوئی کشش حرف تبسم ہے لبوں میں روپوش گوشۂ چشم سے ہنستا ہے ستم گر کوئی جرعۂ آخر مے ہے کہ گراں خوابیٔ شب چاند سا ڈوب رہا ہے مرے اندر کوئی چڑھتے دریا سا وہ پیکر وہ گھٹا سے گیسو راستہ دیکھ رہا ہے مرا منظر کوئی صدف بحر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 157 سے 4657