راحت وصل بنا ہجر کی شدت کے بغیر
راحت وصل بنا ہجر کی شدت کے بغیر زندگی کیسے بسر ہوگی محبت کے بغیر اب کے یہ سوچ کے بیمار پڑے ہیں کہ ہمیں ٹھیک ہونا ہی نہیں تیری عیادت کے بغیر عشق کے ماروں کو آداب کہاں آتے ہیں تیرے کوچے میں چلے آئے اجازت کے بغیر ہم سے پوچھو تو کہ ہم کیسے ہیں اے ہم وطنو اپنے یاروں کے بنا اپنی محبت ...