یہ تو ہاتھوں کی لکیروں میں تھا گرداب کوئی
یہ تو ہاتھوں کی لکیروں میں تھا گرداب کوئی اتنے سے پانی میں اگر ہو گیا غرقاب کوئی غم زیادہ ہیں بہت آنکھیں ہیں صحرا صحرا اب تو آ جائے یہاں اشکوں کا سیلاب کوئی عشق کا فیض ہے یہ تو جو چہک اٹھا ہے بے سبب اتنا بھی ہوتا نہیں شاداب کوئی ابر بن کر مجھے آغوش میں لے اور سمجھ کیسے صحرا کو ...