افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے
افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے شدت کی محبت میں شدت ہی کے غم پہنچے احوال بتائیں کیا رستے کی سنائیں کیا با حالت زار آئے بادیدۂ نم پہنچے جس چہرے کو دیکھا وہ آئینۂ دوری تھا دیوار کی صورت تھا جس در پہ قدم پہنچے کچھ لب پہ کچھ آنکھوں میں لے آئے سجا کر ہم جو رنج کہ ہاتھ آئے جو غم کہ ...