شاعری

راستے تیرہ سہی سینے تو بے نور نہیں

راستے تیرہ سہی سینے تو بے نور نہیں آنکھ جو دیکھ رہی ہے ہمیں منظور نہیں پیڑ پت جھڑ میں لہو روتے ہیں افسردہ نہ ہو شاخ میں نم ہے تو پھر موسم گل دور نہیں مشکلیں دل میں نئی شمعیں جلا دیتی ہیں غم سے بجھ جانا تو درویشوں کا دستور نہیں جانے کیا غم تھا کہ چپ اوڑھ کے وہ بیٹھ رہا وہ کم آمیز ...

مزید پڑھیے

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں میں نے رفتہ سے یہ جانا ہے کہ آئندہ نہیں تیرے دل میں کوئی غم میرا نمائندہ نہیں آگہی تیری مژہ پر ابھی رخشندہ نہیں دل ویراں دم عیسیٰ ہے گئے وقت کی یاد کون سا لمحۂ رفتہ ہے کہ پھر زندہ نہیں تو بھی چاہے تو نہ آئے گی وہ بیتی ہوئی رات ہے وہی چاند ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو جس سمت سفر میں ہے مری ذات وہ تم ہو جو سامنے ہوتا ہے کوئی اور ہے شاید جو دل میں ہے اک خواب ملاقات وہ تم ہو دن آئے گئے جیسے سرائے میں مسافر ٹھہری رہی آنکھوں میں جو اک رات وہ تم ہو ہر بات میں شامل ہیں تصور کے کئی رنگ ہر رنگ تصور میں ہے جو بات وہ ...

مزید پڑھیے

کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا

کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا میں پیاس بانٹتا ہوں ضرورت نہیں تو جا میں شہر شہر خوابوں کی گٹھری لیے پھرا بے دام تھا یہ مال پہ گاہک کوئی نہ تھا پتھر پگھل کے ریت کے مانند نرم ہے درد اتنی دیر ساتھ رہا راس آ گیا سینوں میں اضطراب ہے گریہ ہوا میں ہے کیا وقت ہے کہ شور مچا ہے دعا ...

مزید پڑھیے

فضائیں اس قدر بے کل رہی ہیں

فضائیں اس قدر بے کل رہی ہیں یہ آنکھیں رات بھر جل تھل رہی ہیں دبے پاؤں مری تنہائیوں میں ہوائیں خواب بن کر چل رہی ہیں سحر دم صحبت رفتہ کی یادیں مرے پہلو میں آنکھیں مل رہی ہیں ترا غم کاکلیں کھولے ہوئے ہے مرے سینے میں شامیں ڈھل رہی ہیں اندھیروں میں کمی کیا ہوگی لیکن یہ شمعیں شام ...

مزید پڑھیے

منجمد ہونٹوں پہ ہے یخ کی طرح حرف جنوں

منجمد ہونٹوں پہ ہے یخ کی طرح حرف جنوں سر کسی سیل زدہ شاخ کے مانند نگوں کہاں سرما نفس الفاظ کہاں سوز دروں لالۂ دشت زمستاں ہے میں جو بات کہوں میں کہاں پہنچا کہ ہر بت جسے پوجا اب تک ہے شکستہ سر خاک اور میں شکستہ تو ہوں رحم کر خواب تمنا پہ نگاہ نگراں ٹوٹ کر چاروں طرف بکھرے پڑے ہیں ...

مزید پڑھیے

شجر جلتے ہیں شاخیں جل رہی ہیں

شجر جلتے ہیں شاخیں جل رہی ہیں ہوائیں ہیں کہ پیہم چل رہی ہیں طلب رد طلب دونوں قیامت یہ آنکھیں عمر بھر جل تھل رہی ہیں چمکتا چاند چہرہ سامنے تھا امنگیں بحر تھیں بیکل رہی ہیں دبے پاؤں مری تنہائیوں میں ہوائیں خواب بن کر چل رہی ہیں سحر دم صحبت رفتہ کی یادیں مرے پہلو میں آنکھیں مل ...

مزید پڑھیے

کتنی دیر اور ہے یہ بزم طربناک نہ کہہ

کتنی دیر اور ہے یہ بزم طربناک نہ کہہ راس آتی ہے کسے گردش افلاک نہ کہہ کیوں ٹھہرتا نہیں گلزار میں کوئی موسم کیا کشش رکھتی ہے خوشبوئے‌ تہہ خاک نہ کہہ دیکھ تو رنگ تمناؤں کی بیتابی کے کل فنا ہے مگر اے صاحب ادراک نہ کہہ درد کی آنچ ابد تک ہے کسی روپ میں ہو آج کے پھول کو آئندہ کے خاشاک ...

مزید پڑھیے

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر شام شاید اس رات وہ مہتاب لب جو آئے ہم تری یاد سے کترا کے گزر جاتے مگر راہ میں پھولوں کے لب سایوں کے گیسو آئے وہی لب تشنگی اپنی وہی ترغیب سراب دشت معلوم کی ہم آخری حد چھو ...

مزید پڑھیے

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو مری سانسوں کے تار الجھا گئی ہو در و دیوار میں ہے اجنبیت میں خود بھی کھو گیا تم کیا گئی ہو پریشاں ہو گئے تعبیر سے خواب کہ جیسے کچھ بدل کر آ گئی ہو تمنا انتظار دوست کے بعد کلی جیسے کوئی مرجھا گئی ہو یہ آنسو یہ پشیمانی کا اظہار مجھے اک بار پھر بہکا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 132 سے 4657