شاعری

چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے

چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے سنور رہی ہے تری بزم برہمی کے لئے نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے جو تیرگی میں ہویدا ہو قلب انساں سے ضیا نواز وہ شعلہ ہے تیرگی کے لئے کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر و وصال ابھی تو لوگ ترستے ہیں زندگی کے ...

مزید پڑھیے

گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے

گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے ہم پہ تقاضا حرام دیکھیے کب تک رہے تیرا ستم ہم پہ عام دیکھیے کب تک رہے تلخیٔ دوراں پہ نام دیکھیے کب تک رہے چھا گئیں تاریکیاں کھو گیا حسن نظر وعدۂ دیدار عام دیکھیے کب تک رہے اہل خرد سست رو اہل جنوں تیز گام شوق کا یہ اہتمام دیکھیے کب تک رہے صبح کے ...

مزید پڑھیے

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا ایک چہرہ کہ آنکھوں میں ٹھہرا سا تھا بے چراغی سے تیری مرے شہر دل وادیٔ شعر میں کچھ اجالا سا تھا میرے چہرے کا سورج اسے یاد ہے بھولتا ہے پلک پر ستارہ سا تھا بات کیجے تو کھلتے تھے جوہر بہت دیکھنے میں تو وہ شخص سادہ سا تھا صلح جس سے رہی میری تا ...

مزید پڑھیے

حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی

حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی تم سے بات کرنے کی کیسی آرزو کی تھی ساتھ ساتھ چلنے کی کس قدر تمنا تھی ساتھ ساتھ کھونے کی کیسی جستجو کی تھی وہ نہ جانے کیا سمجھا ذکر موسموں کا تھا میں نے جانے کیا سوچا بات رنگ و بو کی تھی اس ہجوم میں وہ پل کس طرح سے تنہا ہے جب خموش تھے ہم تم اور ...

مزید پڑھیے

یہ اداسی یہ پھیلتے سائے

یہ اداسی یہ پھیلتے سائے ہم تجھے یاد کر کے پچھتائے مل گیا تھا سکوں نگاہوں کو کی تمنا تو اشک بھر آئے گل ہی اکتا گئے ہیں گلشن سے باغباں سے کہو نہ گھبرائے ہم جو پہنچے تو رہ گزر ہی نہ تھی تم جو آئے تو منزلیں لائے جو زمانے کا ساتھ دے نہ سکے وہ ترے آستاں سے لوٹ آئے بس وہی تھے متاع ...

مزید پڑھیے

دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے

دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے تنہا نظر آتے ہیں غم یار کے ہوتے کیوں بدلے ہوئے ہیں نگۂ ناز کے انداز اپنوں پہ بھی اٹھ جاتی ہے اغیار کے ہوتے ویراں ہے نظر میری ترے رخ کے مقابل آوارہ ہیں غم کوچۂ دل دار کے ہوتے اک یہ بھی ادائے دل آشفتہ سراں تھی بیٹھے نہ کہیں سایۂ دیوار کے ہوتے جینا ...

مزید پڑھیے

رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا

رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا اپنا ہونا اور نہ ہونا مبہم تھا ایک گل تنہائی تھا جو ہمدم تھا خار و غبار کا سرمایہ بھی کم کم تھا آنکھ سے کٹ کٹ جاتے تھے سارے منظر رات سے رنگ دیدۂ حیراں برہم تھا جس عالم کو ہو کا عالم کہتے ہیں وہ عالم تھا اور وہ عالم پیہم تھا خار خمیدہ سر تھے بگولے بے ...

مزید پڑھیے

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں ہم نے جس رستے پر اس کو چھوڑا ہے پھول ابھی تک اس پر کھلتے جاتے ہیں دن میں کرنیں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں رات گئے کچھ جگنو ملنے جاتے ہیں دیکھتے دیکھتے اک گھر کے رہنے والے اپنے اپنے خانوں میں بٹ جاتے ہیں دیکھو تو لگتا ہے ...

مزید پڑھیے

رشتے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا

رشتے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا منزل پہ بھی آ جاتے نقشہ بھی بدل جاتا اس جھوٹ کی دلدل سے باہر بھی نکل آتے دنیا میں بھی سر اٹھتا اور گھر بھی سنبھل جاتا ہنستے ہوئے بوڑھوں کو قصے کئی یاد آتے روتے ہوئے بچوں کا رونا بھی بہل جاتا کیوں اپنے پہاڑوں کے سینوں کو جلاتے ہم خطرہ تو محبت کے ...

مزید پڑھیے

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو آج ایسا لگا یہیں کہیں ہو محسوس ہوا کہ بات کی ہے اور بات بھی وہ جو دل نشیں ہو امکان ہوا کہ وہم تھا سب اظہار ہوا کہ تم یقیں ہو اندازہ ہوا کہ رہ وہی ہے امید بڑھی کہ تم وہیں ہو اب تک مرے نام سے ہے نسبت اب تک مرے شہر کے مکیں ہو

مزید پڑھیے
صفحہ 127 سے 4657