شاعری

یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو

یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو ملے نشیب تو کوہ و دمن کی بات کرو نہیں ہے مے نہ سہی چشم التفات تو ہے نئی ہے بزم طریق کہن کی بات کرو فریب خوردۂ منزل ہیں ہم کو کیا معلوم بہ طرز راہبری راہزن کی بات کرو خزاں نے آ کے کہا میرے غم سے کیا حاصل جہاں بہار لٹی اس چمن کی بات کرو قدم قدم ...

مزید پڑھیے

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا کتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا سارہ آرائش کا ساماں میز پر سوتا رہا اور چہرہ جگمگاتا جاگتا ہنستا لگا ملگجے کپڑوں پہ اس دن کس غضب کی آب تھی سارے دن کا کام اس دن کس قدر ہلکا لگا چال پر پھر سے نمایاں تھا دلآویزی کا زعم جس کو واپس آتے آتے کس ...

مزید پڑھیے

بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے

بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے جانے والوں کا جانا یاد آ جاتا ہے بات چیت میں جس کی روانی مثل ہوئی ایک نام لیتے میں کچھ رک سا جاتا ہے ہنستی بستی راہوں کا خوش باش مسافر روزی کی بھٹی کا ایندھن بن جاتا ہے دفتر منصب دونوں ذہن کو کھا لیتے ہیں گھر والوں کی قسمت میں تن رہ جاتا ہے اب ...

مزید پڑھیے

نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا

نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا رفتہ رفتہ نظر آنا بھی تمہی سے سیکھا تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوت اور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا اچھے شعروں کی پرکھ تم نے ہی سکھلائی مجھے اپنے انداز سے کہنا بھی تمہی سے سیکھا تم نے سمجھائے مری سوچ کو آداب ادب لفظ و معنی سے الجھنا ...

مزید پڑھیے

سر جھکائے ہوئے اک راہ پہ چلتے رہیے

سر جھکائے ہوئے اک راہ پہ چلتے رہیے اک صدا کان میں آئے گی وہ سنتے رہیے مڑ کے دیکھیں گے تو پتھر نہیں ہو جائیں گے آپ مڑ کے بھی دیکھیے اور آگے بھی چلتے رہیے ایسے سناٹے میں جب بار ہو آواز نفس صورت دل ہی کسی دل میں دھڑکتے رہیے

مزید پڑھیے

ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو

ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو دل غم سے بھی گھبرائے ہے کیا جانیے کیا ہو کیا غیر کو ڈھونڈیں کہ ترے کوچے میں ہر ایک اپنا سا نظر آئے ہے کیا جانیے کیا ہو آنکھوں کو نہیں راس کسی یاد کا آنسو تھم تھم کے ڈھلک جائے ہے کیا جانیے کیا ہو اس بحر میں ہم جیسوں پہ ہر موجۂ‌ پر خوں آ آ کے گزر ...

مزید پڑھیے

کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے

کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے کچھ کیا جائے چراغوں کو بجھایا جائے بھولنا خود کو تو آساں ہے بھلا بیٹھا ہوں وہ ستم گر جو نہ بھولے سے بھلایا جائے جس کے باعث ہیں یہ چہرے کی لکیریں مغموم غیرممکن ہے کہ منظر وہ دکھایا جائے شام خاموش ہے اور چاند نکل آیا ہے کیوں نہ اک نقش ہی پانی پہ ...

مزید پڑھیے

یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں

یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں جیسے کوئی نہیں تھا خالی کمرے میں ہر پل میرا رستہ دیکھا کرتا ہے جانے کس کا سایہ خالی کمرے میں کھڑکی کے رستے سے لایا کرتا ہوں میں باہر کی دنیا خالی کمرے میں ہر موسم میں آتے جاتے رہتے ہیں لوگ ہوا اور دریا خالی کمرے میں چہروں کے جنگل سے لے کر آیا ...

مزید پڑھیے

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے یہ کہانی مگر ادھوری ہے ہجر تو خیر اس کا لازم تھا وصل بھی اب بہت ضروری ہے میری آنکھوں کے جرم میں شامل ان نگاہوں کی بے قصوری ہے میرے الفاظ ہو رہے ہیں خرچ قوم کی مفت میں مشہوری ہے یوں مرا تاج و تخت چھین لیا جیسے وہ شیر شاہ سوری ہے ان دنوں اس کے سامنے دل ...

مزید پڑھیے

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے اس کے بغیر بے سر و سامان جسم ہے اب ہو نہیں سکے گا مداوا کسی طرح وہ جو کہیں نہیں ہے تو بے جان جسم ہے دل تو جنوں کے کھیل میں مصروف ہے مگر اس کی نوازشات پہ حیران جسم ہے میں نے بنا دیا ہے جسے عشق میں غزل دل اس کا ہے بیاض تو دیوان جسم ہے اب اس کے غم سے مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 128 سے 4657