شاعری

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا اتنی صعوبتوں کا ہمیں یہ صلہ ملا اک وسعت خیال کہ لفظوں میں گھر گئی لہجہ کبھی جو ہم کو کرم آشنا ملا تاروں کو گردشیں ملیں ذروں کو تابشیں اے رہ نورد راہ جنوں تجھ کو کیا ملا ہم سے بڑھی مسافت دشت وفا کہ ہم خود ہی بھٹک گئے جو کبھی راستہ ملا

مزید پڑھیے

دیر تک روشنی رہی کل رات

دیر تک روشنی رہی کل رات میں نے اوڑھی تھی چاندنی کل رات ایک مدت کے بعد دھند چھٹی دل نے اپنی کہی سنی کل رات انگلیاں آسمان چھوتی تھیں ہاں مری دسترس میں تھی کل رات اٹھتا جاتا تھا پردۂ نسیاں ایک اک بات یاد تھی کل رات طاق دل پہ تھی گھنگھروؤں کی صدا اک جھڑی سی لگی رہی کل رات جگنوؤں ...

مزید پڑھیے

خوش جو آئے تھے پشیمان گئے

خوش جو آئے تھے پشیمان گئے اے تغافل تجھے پہچان گئے خوب ہے صاحب محفل کی ادا کوئی بولا تو برا مان گئے کوئی دھڑکن ہے نہ آنسو نہ خیال وقت کے ساتھ یہ طوفان گئے تیری ایک ایک ادا پہچانی اپنی ایک ایک خطا مان گئے اس کو سمجھے کہ نہ سمجھے لیکن گردش دہر تجھے جان گئے

مزید پڑھیے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے یہ دل دل ناداں سہی خوددار بہت ہے دیوانوں کو اب وسعت صحرا نہیں درکار وحشت کے لیے سایۂ دیوار بہت ہے بجتا ہے گلی کوچوں میں نقارۂ الزام ملزم کہ خموشی کا وفادار بہت ہے جب حسن تکلم پہ کڑا وقت پڑے تو اور کچھ بھی نہ باقی ہو تو تکرار بہت ہے خود آئینہ گر ...

مزید پڑھیے

ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے

ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے یہاں پہ راہ وفا مختصر ہے کیا کہیے جدائیاں تو یہ مانا بڑی قیادت ہیں رفاقتوں میں بھی دکھ کس قدر ہے کیا کہیے حکایت غم دنیا طویل تھی کہہ دی حکایت غم دل مختصر ہے کیا کہیے مجال دید نہیں حسرت نظارہ سہی یہ سلسلہ ہی بہت معتبر ہے کیا کہیے

مزید پڑھیے

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں دیکھو خالی دامن والے اب بھی ہیں دیکھو وہ بھی ہیں جو سب کہہ سکتے تھے دیکھو ان کے منہ پر تالے اب بھی ہیں دیکھو ان آنکھوں کو جنہوں نے سب دیکھا دیکھو ان پر خوف کے جالے اب بھی ہیں دیکھو اب بھی جنس وفا نایاب نہیں اپنی جان پہ کھیلنے والے اب بھی ...

مزید پڑھیے

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو اب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو پھولوں سے ہوا بھی کبھی گھبرائی ہے دیکھو غنچوں سے بھی شبنم کبھی کترائی ہے دیکھو اب ذوق طلب وجہ جنوں ٹھہر گیا ہے اور عرض وفا باعث رسوائی ہے دیکھو غم اپنے ہی اشکوں کا خریدا ہوا ہے دل اپنی ہی حالت کا تماشائی ...

مزید پڑھیے

لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے

لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے جو اہل دل میں بیٹھے ہیں چپ چاپ سر جھکائے کہہ دو کوئی صبا سے ادھر آج کل نہ آئے کلیاں کہیں مہک نہ اٹھیں پھول کھل نہ جائے اب دوستی وہ فن کہ جو سیکھے وہی نبھائے اور ہے وفا تماشا جسے آئے وہ دکھائے کچھ کہنا جرم ہے تو خطا وار میں بھی ہوں یہ اور بات میرا ...

مزید پڑھیے

یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے

یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے بہار میں بھی رہے بند تیرے مے خانے فنا کے زمزمے رنج و محن کے افسانے یہی ملے ہیں نئی زندگی کو نذرانے تری نگاہ کی جنبش میں اب بھی شامل ہیں مری حیات کے کچھ مختصر سے افسانے جو سن سکو تو یہ سب داستاں تمہاری ہے ہزار بار جتایا مگر نہیں مانے جو کر ...

مزید پڑھیے

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا گھر بار کے بازار میں پر کیا نہیں ہوتا جبر دل بے مہر کا چرچا نہیں ہوتا تاریکئ شب میں کوئی چہرہ نہیں ہوتا ہر جذبۂ معصوم کی لگ جاتی ہے بولی کہنے کو خریدار پرایا نہیں ہوتا عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا شب بھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 126 سے 4657