کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا
کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا پرندوں کو کسی بھی شکل میں آنا پڑے گا خود اپنے سامنے آتے ہوئے حیران ہیں ہم ہمیں اب اس گلی سے گھوم کر جانا پڑے گا اسے یہ گھر سمجھنے لگ گئے ہیں رفتہ رفتہ پرندوں سے قفس آمادہ کروانا پڑے گا اداسی وزن رکھتی ہے جگہ بھی گھیرتی ہے ہمیں کمرے کو خالی ...