پھر یادوں کا موسم آیا کئی برس کے بعد
پھر یادوں کا موسم آیا کئی برس کے بعد
جانے کیوں درپن شرمایا کئی برس کے بعد
دل سے کتنا دور رہا تھا سکھ سپنوں کا گاؤں
آنکھوں میں سپنا انکرایا کئی برس کے بعد
میٹھی میٹھی خوشبو والی سانسیں آتی ہیں
بگیا نے مہوا ٹپکایا کئی برس کے بعد
تیز دھوپ میں تپتی راہیں پیاس تھی ننگے پاؤں
نینوں نے امرت برسایا کئی برس کے بعد
سانسوں میں بیلا مہکا اور بالوں میں جوہی
جیسے کوئی پاہن آیا کئی برس کے بعد
آم کی چٹنی دھلی دال اور روٹی گرم گرم
اماں نے چولہا سلگایا کئی برس کے بعد