ارادے ہی پیروں کے چھالے ہوئے ہیں
ارادے ہی پیروں کے چھالے ہوئے ہیں
سفر حادثوں کے حوالے ہوئے ہیں
تمنا بہت تھی خوشی مل نہ پائی
ہون میں جلے ہاتھ کالے ہوئے ہیں
کوئی غم نہیں اپنے جلنے کا ہم کو
تری راہ میں تو اجالے ہوئے ہیں
نہ ٹوٹے کوئی خواب پلکوں سے گر کر
چھلکتے ہیں نین ہم سنبھالے ہوئے ہیں
ابھی تک ہے سانسوں میں خوشبو گلوں کی
چمن سے کبھی کے نکالے ہوئے ہیں
گرے جانے کس پہلو آ کر زمیں پر
یہ جیون کا سکہ اچھالے ہوئے ہیں