میرے اندر جیسے کوئی ٹھنڈا صحرا جلتا ہے
میرے اندر جیسے کوئی ٹھنڈا صحرا جلتا ہے
آہٹ آہٹ یوں لگتا ہے مجھ میں کوئی چلتا ہے
میں نے تو دہری پر بیٹھے بیٹھے رات گزاری ہے
میرے بستر پر پھر تنہا کروٹ کون بدلتا ہے
آگ ہون کی تیز ہے اتنی سارے منتر بھلا دے گی
اس ویدی پر سیدھا والا ہاتھ ہمیشہ جلتا ہے
اس نگری میں کانچ کے ٹکڑے پتھر کانٹے بکھرے ہیں
دھیان سے چلنا اس نگری میں اکثر پاؤں پھسلتا ہے
تیز آنچ میں جل کر چوڑی سترنگی بن جاتی ہے
میری سانسوں کا شیشہ بھی کتنے رنگ بدلتا ہے
وہ چاہے تو ہاتھ بڑھا کر گھر کے اندر لے جائے
اس کے در پر گرنے والا خود سے کہاں سنبھلتا ہے
چاند کے آنسو شبنم بن کر دھرتی کے سینے پر ہیں
سورج کی آہوں سے جیسے برف کا دریا گلتا ہے