میری سانسوں سے یوں آئے بھینی بھینی آگ کی خوشبو

میری سانسوں سے یوں آئے بھینی بھینی آگ کی خوشبو
جوگی کی دھونی سے جیسے اڑتی ہے بیراگ کی خوشبو


ماں کا ہاتھ پکڑ کر جس سے ہو کر میلے جاتے تھے
مہوا کے اس باغ سے آئے ماں کے سریلے راگ کی خوشبو


ماں کی گجھیا میٹھے پارلے پوری اور کچوڑی سوندھی
پھیکی ہولی یاد دلائے ٹیسو والے پھاگ کی خوشبو


جس میں تو نے ہاتھ تھے دھوئے کچے دودھ سا مہکے ہے
تیری خوشبو سے ملتی ہے جھرنے کے اس جھاگ کی خوشبو


سب کے چولھے الگ الگ ہیں جب سے اماں گزری ہیں
اجڑے چوکے سے آتی ہے اماں والے ساگ کی خوشبو