میری خاطر کوش بھاگیہ کا گھٹ جاتا ہے

میری خاطر کوش بھاگیہ کا گھٹ جاتا ہے
دل کی ہر چٹھی کا کونا پھٹ جاتا ہے


چنچل شوخ ہوائیں سانکل کھٹکاتی ہیں
دھیان ہمارا تیری اور سے ہٹ جاتا ہے


ہم نے سکھ سپنوں کے گہرے گھاؤ سیئے ہیں
اگر پاٹنا چاہو ساگر پٹ جاتا ہے


دھیان سے پکڑو بانس زندگی لچک رہی ہے
خوابوں کی رسی پر من کا نٹ جاتا ہے


عمر قید سانسوں کی ہے یہ مایا نگری
کھٹتے کھٹتے سارا جیون کھٹ جاتا ہے


لکھ لکھ کر میں نام تمہارا مٹا رہی ہوں
ہلکا دھبا رہتا پنا پھٹ جاتا ہے