پتے نہیں کہیں ہری شاخ شجر نہیں
پتے نہیں کہیں ہری شاخ شجر نہیں
اس شہر میں بہار کی کوئی خبر نہیں
رنگ خزاں میں لاکھ ملاؤں دلوں کے رنگ
موج شراب و شعر میں کوئی اثر نہیں
ڈوبے پڑے ہیں قلزم خواب و خیال میں
موج رواں کہاں ہے کسی کو خبر نہیں
دریا میں موج بن کے کہاں تک رہے کوئی
موج رواں بہ صورت دیوار و در نہیں
اب منزل وجود نہیں دل کی کائنات
اس گھر میں ایک میں ہوں کوئی بام پر نہیں
تو راحت وجود ہے تو روح کائنات
اس گھر میں تو نہیں ہے تو یہ میرا گھر نہیں
دشت طلب ہے ختم یہاں ناقۂ نگاہ
یہ وہ زمیں ہے جس میں تمہارا گزر نہیں