پل بھر کا مہمان

کون آیا ہے
یہ کس نے پھونک کر رکھے قدم
دہلیز پر چپ چاپ چوروں کی طرح
رات کی تاریکیوں میں سرسراہٹ سانپ کی
سانس کو سینے کے اندر روک لو
سن نہ لے قدموں کی آہٹ
دل کی دھڑکن کو کہو چپ سادھ لے
دل کا در وا تو نہ تھا
پر وہ تو دروازے سے اندر آ گیا
اس نے دستک بھی نہ دی
ایک سائے کی طرح ہے ساتھ ساتھ
کیا کریں کس کو بلائیں
کیا کہیں یہ کون ہے
چپ چاپ بے آواز
گم صم سامنے بیٹھا ہوا
یوں تو سب کچھ ہے
اگر سوچو تو یہ کچھ بھی نہیں
وہم و گماں
کون اب ڈھونڈے اسے
وہ تو آ کر رات کی تاریکیوں میں
اس طرح گھل مل گیا
جیسے اپنا جسم ہو اس کا لباس
ہم نے دیکھا ہے اسے
جو خود سے بھی روپوش ہے
وہ ہماری روح کی گردش میں ہے
اور ہمارے جسم سے سیراب ہے
اب اگر تم سو سکو تو سو رہو
اب وہ جائے گا کہاں
اب وہ شاید پھر نہ آئے گا کبھی