پاکستان کے نوجوان دنیا میں پاکستان کا نام کیسے روشن کررہے ہیں؟

پاکستان کے بارے میں میڈیا پر ہروقت منفی اور مایوس کن خبریں اور تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔ کہیں سیاسی عدم استحکام کی باتیں ہورہی ہیں تو کہیں معیشت کے ڈوبنے کا۔۔۔اس دوران کوئی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آئے تو آنکھوں میں ٹھنڈک اور دل میں سرور سا محسوس ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بقول اقبال کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔

کسی بھی معاشرے میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں؛ ایک وہ جو ہر وقت نظام اور قسمت کو کوستے رہتے ہیں اور کسی خضر کا انتظار کرتے ہوئے عمر گزار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو نہ صرف بڑے خواب دیکھتے ہیں بلکہ انہیں پورا کرنے کے لیے سرتوڑ جدوجہد بھی کرتے ہیں اور بالآخر سرخرو ہوتے ہیں. یہ شاید انسانی ذہن کی خرابی ہے کہ وہ منفی چیزوں پر زیادہ فوکس کرتا ہے اور مثبت چیزوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ان لوگوں کو فالو کریں جو مثبت طریقے سے مثبت مقاصد کی تکمیل تک پہنچتے ہیں، تاکہ ہم اُن سے انسپائر ہو کر اپنی زندگی میں بھی کچھ اچھا کر سکیں. بجائے اس کے کہ خود کو پیدائشی طورپر Loser (ہارا ہوا) سمجھ کر ہاتھ ہی نہ ہلائیں اور بیٹھ کر حکمرانوں اور نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے رہیں. یہ تمہید باندھنے کا مقصد کچھ ایسے پاکستانی چہروں سے روشناس کروانا تھا جنہوں نے زندگی میں کچھ بڑا کرنے کی ٹھان لی اور بالکل جوانی میں ہی اپنی پہچان آپ بن گئے، تو ملاحظہ فرمائیے:

سلمان بیگ : علی بابا کا ہیڈ آف ایس ای او

 سلمان بیگ کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ ان کو علی بابا کے جنوبی ایشیا  خطے کا ایس ای او ہیڈ مقرر کیا گیا ہے۔ سلمان بیگ سیالکوٹ سے علی بابا کیسے پہنچے آئیے آپ کو کہانی سناتے ہیں۔

 علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ ایک چینی کمپنی ہے جو ای کامرس، آن لائن خریدو وفروخت اور انٹرنیٹ کی دنیا میں جانا مانا ادارہ ہے۔ یہ ادارہ 4 اپریل 1999 کو قائم کیا گیا۔ اس کا صدر مقام چینی شہر ہانگ زو میں واقع ہے۔

انھوں نے خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ KPITB سے  بطور ڈیجیٹل مارکیٹنگ سٹریٹجسٹ اینڈ ٹرینر کا کورس مکمل کیا۔ وہ سرچ انجن آپٹمائزیشن کے ماہر ہیں اور دنیا بھر میں ان کی مانگ ہے۔ وہ اپنے شعبے میں نہ صرف مہارت رکھتے ہیں بلکہ دنیا میں پاکستان کا نام بھی روشن کررہے ہیں۔ انھوں نے سرکاری اور غیر سرکاری کئی ریسرچ پروجکٹس کامیابی سے مکمل کیے۔

گزشتہ ہفتے علی بابا کمپنی نے سلمان بیگ کو جنوبی ایشیا میں ایس ای او ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ یہ سب اُن کی ان تھک محنتوں اور ریاضتوں کا نتیجہ اور تمام پاکستانیوں کے لیے باعث فخر بات ہے. 

شفیقہ اقبال : گوگل پولینڈ میں واحد پاکستانی ڈیٹا انجینیئر

 شفیقہ اقبال کا تعلق جنوبی پنجاب کے دور دراز شہر صادق آباد سے ہے۔ ان کا صادق آباد سے گوگل تک کا سفر نہایت دل چسپ ہے۔ وہ گوگل کے مرکزی دفتر جو پولینڈ میں واقع ہے، میں 1300 ملازمین میں واحد پاکستانی ہیں۔

شفیقہ اقبال ڈیٹا انجینیر ہیں اور اپ ورک پر پاکستان کی ٹاپ سیلر کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ پاکستان کی ٹیکنالوجی میں خیر سگالی سفر برائے خواتین کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ ان کی عمر 24 سال ہے اور وہ صادق آباد میں پیدا ہوئیں۔انھوں نے یونیورسٹی آف لاہور سے کمپیوٹر کے شعبے میں گریجوایشن کی اور ڈیٹا سائنس کے طور کئی کارنامے سرانجام دیے۔

ان کا گوگل تک سفر دل چسپ اور حیران کن ہے۔ جیسا کہ ذکر ہوا کہ وہ ڈیٹا سائنس کے طور فری لانسنگ پلیٹ فارم پر کئی عرصے سے کام کررہی ہیں۔ لنکڈاِن پر اس حوالے سے کافی شہرت حاصل ہے۔ شفیقہ اقبال نے گوگل کو باقاعدہ طور نوکری کے لیے درخواست نہیں دی تھی۔ بلکہ گوگل نے ان کے لنکڈاِن اکاؤنٹ سے ڈیٹا لے کر انھیں پولینڈ میں گوگل کے مرکزی دفتر میں نوکری کے لیے پیشکش کی۔ شفیقہ گوگل کے 1300 ملازمین میں واحد پاکستانی ہیں۔ دل چسپ بات ہے کہ جب وہ گوگل کو آن لائن انٹرویو دے رہی تھی تھیں تو اچانک انٹرنیٹ کنیکشن نے کام کرنا بند کردیا۔ لیکن اس کے باوجود گوگل نے انٹرنیٹ بحال ہونے کے بعد انٹرویو مکمل کیا۔ گوگل میں نوکری میں ان کے آرٹیکلز اور بلاگنگ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ یعنی وہ بھی ایسے ہی حالات سے گزر کر وہاں پہنچی ہیں جن کا ہم رونا روتے رہتے ہیں، بہت اچھی بات ہے کہ وہ ہماری نمائندگی کر رہی ہیں ہمیں ان سے انسپائر ہونا چاہیے. 

شفیقہ اقبال کی کہانی پاکستانی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ وہ حالات اور مواقع نہ ملنے کا رونا رونے رہتے ہیں۔ شفیقہ اقبال کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سائنس اور ڈیٹا انجینیئر کی دنیا بھر میں ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں میں ٹیلنٹ بہت ہے لیکن گوگل اور ایمازون جیسے عالمی اداروں کے نہ ہونے سے ان کے ٹیلنٹ کو صحیح مقام نہیں مل پاتا۔

نوح دستگیر بٹ : کامن ویلتھ گیمز 2022 میں پہلا گولڈ میڈل جیتنے والا پاکستانی

نوح دستگیر بٹ کا نام پچھلے ہفتے سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا۔صرف ٹیکنالوجی میں ہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل لیول پر کھیلوں میں بھی پاکستان کا نام اوپر آرہا ہے۔ حال ہی میں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے نوح دستگیر بٹ نے برمنگھم میں منعقد ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں سُپر ہیوی ویٹ کیٹگری میں سونے کا تمغہ جیتا ہے. انہوں نے 405 کلوگرام وزن اٹھا کر کامن ویلتھ ریکارڈ قائم کر کے پاکستان کا نام روشن کیا ہے. اُن کو سوشل میڈیا پر بہت سراہا جا رہا ہے اور وہ اس کے حقدار بھی ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز 2022 میں پہلا گولڈ میڈل کیسے جیتا؟

نوح دستگیر بٹ کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ انھوں نے 2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں ویٹ لفٹنگ کے مقابلے میں کانسی کا میڈل حاصل کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 2018 میں جب گولڈ میڈل نہ جیتنے کی وجہ سے ان کے والد صاحب ان سے ناراض رہے اور کئی دن تک ان سے بات بھی نہیں کی۔

قبل ازیں وہ کامن ویلتھ ویٹ لفٹنگ چیمپیئن شپ کے 2015 تا 2017 کے مقابلوں میں دو چاندی اور دو کانسی کے میڈلز بھی اپنے نام کرچکے ہیں۔

مصنف عمر فاروق نوجوان لکھاری ہیں۔ کتابوں کے دلدادہ اور سفر کے رسیا ہیں۔ ان کی دل چسپ سرگرمیوں کے لیے ان کی فیس بک وال کو ملاحظہ کیجیے۔

https://www.facebook.com/umarfarooq7575

متعلقہ عنوانات