نظر آئے کیا غبار مہ و کہکشاں سے آگے
نظر آئے کیا غبار مہ و کہکشاں سے آگے
کوئی کارواں ہے شاید مرے کارواں سے آگے
کوئی سر ہو صرف سجدہ کہاں آج بے ارادہ
کہ زمیں ہی بے کشش ہے ترے آستاں سے آگے
تری یاد دستگیر دل غم زدہ ہوئی ہے
مجھے ساتھ لے چلی ہے غم دو جہاں سے آگے
یہ جہاں بہ نام جنت کہیں پھر نہ پیش آئے
وہی قصر و باغ جو ہیں مہ و کہکشاں سے آگے
ترے گیسوؤں کی خوشبو یہ پیام دے گئی ہے
کہ نشاط بار سائے ہیں غم تپاں سے آگے
کہیں کس سے ہو گئی ہے یہیں آ کے ختم دنیا
کہ نہیں ہے کوئی منزل حرم بتاں سے آگے
کٹی ایک عمر فرقت سر برزخ محبت
کہ چلا نہ جا رہا تھا دل ناتواں سے آگے
وہیں دائمی خوشی کے ہیں چھپے ہوئے خزانے
جو پہاڑی سلسلہ ہے یم بے کراں سے آگے
حس باصرہ کو مانیؔ جو سمیع کیف کر دے
وہ سخن طراز نرگس ہے کہیں زباں سے آگے