Kuldeep Salil

کلدیپ سلل

کلدیپ سلل کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    ہم سنائیں گے تجھے اپنا فسانہ ایک دن

    ہم سنائیں گے تجھے اپنا فسانہ ایک دن یوں نہیں اے زندگی فرصت میں آنا ایک دن بات لمبی وقت تھوڑا آنکھ نم ہے آپ کی اس طرح بھی کیا خبر تھی ہوگا جانا ایک دن بات آئی ہے زباں پہ عرض کر دوں جو کہو ہم نے چاہا تھا تمہیں اپنا بنانا ایک دن رہ نہ جائے کوئی حسرت کر گزر جو تجھ سے ہو ورنہ اس اندھے ...

    مزید پڑھیے

    ہوئے جو قتل ان کا ہے وہی غم خوار بولے گا

    ہوئے جو قتل ان کا ہے وہی غم خوار بولے گا مزے کی بات ہے قاتل کی جے جے کار بولے گا طبیعت ہو کہ نیت ہو حقیقت ہوگی ظاہر ہی تری خاموشیوں میں بھی ترا کردار بولے گا ستم گر نے جو کرنا تھا کیا لیکن ستم یہ ہے مرے دل کو یقیں تھا کہ کوئی غم خوار بولے گا کہانی زندگی کی ایک دریا کی حقیقت ...

    مزید پڑھیے

    نہ منزل تھی نہ رستہ تھا کیا پھر بھی سفر برسوں

    نہ منزل تھی نہ رستہ تھا کیا پھر بھی سفر برسوں وہ جلوہ تو گیا لیکن رہا اس کا اثر برسوں سوال زندگی اکثر کئے رہتا پریشاں تھا تلاش زندگی میں ہی رہی اپنی نظر برسوں ملی جو ماں مجھے کل رات سپنے میں تو یاد آیا نہیں جانا ہوا میرا ہے اب کے اپنے گھر برسوں نہیں دیتی ہماری زندگی بھی آج کل ...

    مزید پڑھیے

    چاند کو لے کر چلی گئی ہے دور کہیں بارات بہت

    چاند کو لے کر چلی گئی ہے دور کہیں بارات بہت ہم بھی چلو اب سو جائیں کہ بیت گئی ہے رات بہت ساون میں غضب کا سوکھا تھا ہوئی چیت میں ہے برسات بہت رشتوں کی جگہ ان رشتوں کی اب ہونے لگی ہے بات بہت جا پہنچے لوگ تو منزل پر میں خوش ہوں اب تک سفر میں ہوں کہ میرے لیے اے جان غزل ہے ہاتھ میں تیرا ...

    مزید پڑھیے

    دن فرصتوں کے چاندنی کی رات بیچ کر

    دن فرصتوں کے چاندنی کی رات بیچ کر ہم کامیاب ہو گئے جذبات بیچ کر ہم نے بھی پیلے کر دیے ہیں بیٹیوں کے ہاتھ تھوڑی بہت بچی تھی جو اوقات بیچ کر مرتی ہے دھرتی پیاس سے رندھنے لگے گلے کچھ لوگ مالا مال ہیں برسات بیچ کر سوچا ہے اب خرید لیں کچھ چاند پر زمین بھائی کا حصہ باپ کے جذبات بیچ ...

    مزید پڑھیے

تمام