نہ دل دماغ کا اس میں قصور ہوتا ہے
نہ دل دماغ کا اس میں قصور ہوتا ہے
کسی سے ایک نظر کا فطور ہوتا ہے
روایتیں بھی عجب ہیں بڑی محبت کی
جو دل کے پاس ہو آنکھوں سے دور ہوتا ہے
کوئی بھی شکل یوں ہوتی نہیں ہے نورانی
تپے جو آگ میں اس پر بھی نور ہوتا ہے
کچھ ایک چیز کہیں آ تو جائے ہیں لیکن
رکے وہی ہیں جہاں پر شعور ہوتا ہے
یہ رب ہی جانے کہ وہ عشق کس کو کس سے کب
پر ایک بار تو سب کو ضرور ہوتا ہے
کچھ ایک گھونٹ لگا رات ملنے جاؤں گا
سنا ہے شب کو نشے میں وہ چور ہوتا ہے
اصول عشق کی تکرار کا ہے جس کو بھی
زیادہ پیار اسی کا قصور ہوتا ہے