نہ آسمان کو چھو کر نہ ہی تکان کے بعد
نہ آسمان کو چھو کر نہ ہی تکان کے بعد
پرند لوٹ کے آیا ہے کچھ اڑان کے بعد
بچھڑ کے ماں سے کڑی دھوپ میں جلے اکثر
ملا سکون کہاں اس کے سائبان کے بعد
سکون پائے تو پائے بھی کس طرح انساں
ہیں امتحان کئی ایک امتحان کے بعد
پھر اس کے پاؤں کی زنجیر بن گئی غربت
بنا سکا نہ کوئی گھر جلے مکان کے بعد
خوشی سے گھر تھا معطر عجب سی رونق تھی
اداس ہو گیا ماحول میہمان کے بعد
جو لوٹتے ہیں مزے فرش گل کے بستر پر
وہ فرش خاک پہ سوئیں گے اس جہان کے بعد
کسی اڑان کو معراج فن سمجھنا کیا
ہیں آسمان کئی نصرؔ آسمان کے بعد