منزلیں کیا بتائیں میں کیا ہوں
منزلیں کیا بتائیں میں کیا ہوں زندگی کا اداس رستہ ہوں تو خروش تلاطم دریا میں سکوت سراب صحرا ہوں کام آئی نہ کچھ شناسائی شہر کی بھیڑ میں اکیلا ہوں میں تری جستجو کے صحرا میں رقص کرتا ہوا بگولہ ہوں خار و خس ہی سہی مگر یارو میں بھی صحن چمن کا حصہ ہوں چشم عبرت سے دیکھیے مجھ ...