میں اگر سیڑھیاں اتر جاتی

میں اگر سیڑھیاں اتر جاتی
اس کا مطلب ہے میں تو مر جاتی


میں اگر شام کی ہوا ہوتی
روز ہی چاندنی کے گھر جاتی


تم اگر ہم سفر نہیں ہوتے
میری ہمت کہیں بکھر جاتی


وہ اگر مجھ کو سانتونا دیتا
میری آواز اور بھر جاتی


دیکھ رکھی تھی موت کی صورت
آئنہ دیکھتی تو ڈر جاتی


میں اگر سوچتی تمہاری طرح
میں بھی ہر بات سے مکر جاتی