جب تمہاری طرف سے اشارے ہوئے
جب تمہاری طرف سے اشارے ہوئے
ہم تمہارے ہوئے تم ہمارے ہوئے
بے وفائی کا الزام مجھ کو نہ دو
بے جھجھک کہہ بھی دو تم کنارے ہوئے
پھر محبت کو ایسی نظر لگ گئی
اشک میٹھے تھے جو کھارے کھارے ہوئے
پھیکے پھیکے ہوئے جب قریب آئے تو
چاند تارے زمیں پر اتارے ہوئے
دیکھنا کیا ہوا اس کا مڑ کر مجھے
میری پلکوں پہ آنسو ستارے ہوئے
مل گئی جب تری چھاؤں میں کچھ جگہ
یوں لگا اب مرے وارے نیارے ہوئے