آنکھوں میں عبارت ہے اور دل میں کہانی ہے
آنکھوں میں عبارت ہے اور دل میں کہانی ہے
آ جائے اگر وہ تو اس کو ہی سنانی ہے
یہ جتنے مناظر ہیں بینائی سے باہر ہیں
آنکھوں میں ابھی کوئی تصویر پرانی ہے
اس چاند کا پانی میں بس عکس اترنا ہے
اک چاند ہے آنکھوں میں اور جھیل میں پانی ہے
احسان اٹھانا ہے یادوں کے اجالوں کا
سورج ہے سمندر میں اور رات بتانی ہے
کچھ کام نہیں تم کو کچھ کام نہیں ہم کو
بیٹھے رہو بس یوں ہی تصویر بنانی ہے