خوشبو ہمارے پیار کی اس تک پہنچ گئی

خوشبو ہمارے پیار کی اس تک پہنچ گئی
تصویر اعتبار کی اس تک پہنچ گئی


آواز دے رہا تھا کوئی دور سے مجھے
تنہائی انتظار کی اس تک پہنچ گئی


کل شام ہی تو اس سے ملی تھی مری نظر
شدت مرے خمار کی اس تک پہنچ گئی


وہ مجھ کو چاہتا ہے مجھے تب پتہ چلا
چابی جب اختیار کی اس تک پہنچ گئی


پاگل ہوا نے حال سب اس کو بتا دیا
یعنی خبر بہار کی اس تک پہنچ گئی