تو مرے غم سے آشنا کب تھا
تو مرے غم سے آشنا کب تھا
غم زدہ ہوں تجھے پتہ کب تھا
چتر تیرا کوئی بنا کب تھا
اک دیا تھا مگر جلا کب تھا
آ تو جاتی ترے قریب مگر
کوئی آنے کا راستہ کب تھا
عکس کیسے سنبھال کر رکھتی
ٹوٹ کر آئنہ بچا کب تھا
میری خاموشیوں کو بولنے کا
تو نے موقع کوئی دیا کب تھا
درد کو کچھ دوا بھی چاہیئے تھی
درد کا کوئی سلسلہ کب تھا