لہریں کیوں ساکت و خموش ہیں سوچا جائے
لہریں کیوں ساکت و خموش ہیں سوچا جائے
پھر مناسب ہو تو کنکر کوئی پھینکا جائے
اس قدر جور اٹھائے ہیں خزاں کے ہاتھوں
ہم سے اب موسم گل میں بھی نہ چہکا جائے
اور بھی کتنے ہی اسباب ہیں سرمستی کے
یہ ضروری نہیں مے پی کے ہی بہکا جائے
آئینہ حسن خداداد کی کیا دے گا داد
اس کو کچھ میری نگاہوں سے ہی دیکھا جائے
جن میں تحریر ہوں آیات محبت یارو
ان صحیفوں کو نہ بازار میں بیچا جائے
دل میں ہوتی ہے جو محسوس یہ ہلکی سی خلش
دوستو اس کا کوئی نام تو رکھا جائے
ایسا خوشبو سے بھرا زخم مجھے دے دیجے
ہر قدم پر جو رہ زیست کو مہکا جائے
شعر کہنے کا فقط اتنا ہی مقصد ہے ندیمؔ
انجمن والوں کے معیار کو پرکھا جائے