بے چارگی کے نام کبھی بے بسی کے نام
بے چارگی کے نام کبھی بے بسی کے نام
الزام سب ہی آئے مری خامشی کے نام
ہر اک قدم پہ کھائے ہیں میں نے کئی فریب
کچھ سادگی کے نام تو کچھ دوستی کے ساتھ
کیا زندگی تھی کرب کے لمحات کے سوا
کچھ روشنی کے نام تھے کچھ تیرگی کے نام
کاغذ میں جذب ہو گئے پلکوں سے گر کے جو
وہ اشک بھیجتا ہوں تری بے رخی کے نام
ساجدؔ رہ وفا میں ملی مجھ کو تلخیاں
دل کی لگی کے نام کبھی دل لگی کے نام