دیکھ کر حوصلہ مرے دل کا

دیکھ کر حوصلہ مرے دل کا
ہاتھ تھرا رہا ہے قاتل کا


پاس آیا نہ وقت غرقابی
مجھ پہ احسان ہے یہ ساحل کا


کیا کہیں حشر کارواں کیا ہو
راہبر کا پتہ نہ منزل کا


خود ہی دیتے ہیں زخم اور خود ہی
پوچھتے ہیں مزاج بسمل کا


آ گئی رت بہار کی شاید
ہر طرف شور ہے سلاسل کا


کھنچ کے آنے پہ وہ ہوئے مجبور
معجزہ ہے یہ جذب کامل کا


ہم زباں ہو کے بھی خموش رہے
پاس رکھنا تھا رنگ محفل کا


پردۂ شعر میں ندیمؔ اکثر
ہم سناتے ہیں ماجرا دل کا