دل کے رستے ہوئے زخموں کو ہوا دیتے ہیں
دل کے رستے ہوئے زخموں کو ہوا دیتے ہیں
میرے اپنے ہی مرا درد بڑھا دیتے ہیں
لوگ مجبور پہ احسان تو کرتے ہیں مگر
ضرب احساس کے شیشے پہ لگا دیتے ہیں
مصنف وقت کا انصاف تو دیکھو لوگو
کون مجرم ہے مگر کس کو سزا دیتے ہیں
شام ہوتے ہی تری یاد بھی آ جاتی ہے
اشک پلکوں کے دریچوں کو سجا دیتے ہیں
لوگ ملتے ہیں بہت ٹوٹ کے لیکن ساجدؔ
وقت کے ساتھ ہر اک بات بھلا دیتے ہیں