اے وقت تیری آنکھ کا کاجل رہے ہیں ہم

اے وقت تیری آنکھ کا کاجل رہے ہیں ہم
ہر ایک مسئلے کا ترے حل رہے ہیں ہم


منزل کی جستجو کا یہ عالم تو دیکھیے
صحرا ہے تیز دھوپ ہے اور چل رہے ہیں ہم


ہاتھوں میں آج وقت نے کشکول دے دیا
نازاں ہیں ہم یہ سوچ کے کیا کل رہے ہیں ہم


اشکوں نے اور آتش فرقت کو دی ہوا
برسات ہو رہی ہے مگر جل رہے ہیں ہم


انجان بن کے آج جو گزرا قریب سے
برسوں اسی کے عشق میں پاگل رہے ہیں ہم


ہر دور کو لہو کا دیا ہم نے ہی خراج
اس دور میں بھی زینت مقتل رہے ہیں ہم


حق گو ہیں حق شناس ہیں اور حق پرست بھی
ساجدؔ اسی وجہ سے بہت کھل رہے ہیں ہم