کیونکر آؤں میاں پلٹ کر میں

کیونکر آؤں میاں پلٹ کر میں
خوش بہت ہوں اسے لپٹ کر میں


دوستو ہوں بڑا بڑے گھر کا
اس لئے رہ گیا ہوں بٹ کر میں


مجھ کو ملنا تھا ہر کسی سے اور
جانے کیوں رہ گیا ہوں کٹ کر میں


میرا اسلوب میرا اپنا ہے
سوچتا ہوں سبھی سے ہٹ کر میں


میرے اندر ہے عشق کا بارود
سو دکھاؤں گا تجھ کو پھٹ کر میں


نیند سے ہاتھا پائی کرنی تھی
گر پڑا خواب پر جھپٹ کر میں


عشق تھا درد کا سبق منانؔ
اور اسے آ گیا ہوں رٹ کر میں