ہے مجھ کو اندازہ کھل بھی سکتا ہے
ہے مجھ کو اندازہ کھل بھی سکتا ہے
دستک پر دروازہ کھل بھی سکتا ہے
ہجر میں تم محتاط رہو تو بہتر ہے
کیونکہ زخم ہے تازہ کھل بھی سکتا ہے
سونے والوں کو معلوم نہیں شاید
خوابوں کا خمیازہ کھل بھی سکتا ہے
اتنا بھی محتاط نہیں ہوتا یہ دوست
رخساروں پر غازہ کھل بھی سکتا ہے
سناٹا اب اتنا بھی بے درد نہیں
چپ پر یہ آوازہ کھل بھی سکتا ہے
کیسے عشق کا ہر جانب منان قدیرؔ
بکھرا ہے شیرازہ کھل بھی سکتا ہے