انکار بنے یا کوئی اقرار تماشہ
انکار بنے یا کوئی اقرار تماشہ
میں دیکھتا رہتا ہوں لگاتار تماشہ
میں خود سے جھگڑنے میں ہوں مصروف مرے دوست
اور دیکھ رہے ہیں در و دیوار تماشہ
ہمدردیاں لازم ہیں مرے ساتھ کہ اب میں
بنتا ہوں محبت میں کئی بار تماشہ
ہر آدمی آتا نہیں رسوائی کی زد میں
بازار میں بنتا ہے خریدار تماشہ
دکھ یہ ہے کہ ملنے کو میں بے چین بہت ہوں
اور دیکھ رہے ہیں مری سرکار تماشہ
ہم دیکھتے رہتے ہیں ڈرامائی محبت
کرتے ہیں یہاں روز اداکار تماشہ
حالات بدل سکتے ہیں منانؔ کسی وقت
بن جائیں گے اب صاحب دستار تماشہ