دکھ ہے کئی وبال مجھے نوچتے رہے

دکھ ہے کئی وبال مجھے نوچتے رہے
وحشت میں ماہ و سال مجھے نوچتے رہے


میں احتجاج کر نہ سکا احترام میں
اور اس کے خد و خال مجھے نوچتے رہے


زخمی ہوا ہوں حسن کے ہاتھوں تمام عمر
کچھ لوگ بے مثال مجھے نوچتے رہے


ان کو بھی دے رہا ہوں دعائیں مرے عزیز
جو کر کے پائمال مجھے نوچتے رہے


یا شہر میں حسین رلاتے تھے رات دن
یا دشت میں غزال مجھے نوچتے رہے


منانؔ جو ملاتا رہا میری ہاں میں ہاں
اس شخص کے سوال مجھے نوچتے رہے