ایک نظم
گھر بنا کر قید ہو جانے سے بہتر ہے کہ ہم
خیمۂ افلاک کے نیچے گزاریں زندگی
جس کی کوئی حد نہیں
اک سرے سے ہم سفر آغاز بھی کر لیں اگر
موت تک دوجے سرے کو پا نہ پائیں گے کبھی
کس لیے پھر مختصر سی
چار دیواری میں خود کو قید کرنے کے لئے
گھر بنانے کی تمنا ہم کریں
قید ہی موت ہے اور موت سے
جس قدر ممکن ہو اتنا دور رہنا چاہئے