کیف صہبا سے نہیں حسن طرحداری کا

کیف صہبا سے نہیں حسن طرحداری کا
دوسرا نام جوانی بھی ہے سرشاری کا


حلقۂ دام سیاست خم گیسوئے بتاں
ہر طرف دام بچھا دل کی گرفتاری کا


شانہ کش ریشمی بالوں کے ذرا آہستہ
کفر پختہ ہے کہاں آج کی زناری کا


لذت زخم سے آگاہ نہیں تھی دنیا
سلسلہ گل سے چلا ہے جگر افگاری کا


اشک پلکوں پہ سجا لینے دو اہل غم کو
ان ستاروں کو بھی موقع دو ضیا باری کا


باز رہیے سر گل گشت چمن سے کب تک
سنگ باری کا جو موسم وہی گل باری کا


شیخ کعبہ سے کوئی رنگ نہ لے کر اٹھے
تتلیاں کر کے طواف آئی ہیں پھلواری کا


بجھ کے رہ جاتا ہے گرتے ہی کسی دامن پر
عشق میں سوز جگر چاہیے چنگاری کا


نیم باز آنکھیں لرزتی ہوئی پلکیں مانیؔ
جیسے احساس شگوفوں میں ہو بیداری کا