جو زخم لگے ہیں مرے دل پر نہیں دیکھا

جو زخم لگے ہیں مرے دل پر نہیں دیکھا
تم نے مرا حال دل مضطر نہیں دیکھا


آنکھوں میں تو بربادیٔ گلشن کا تھا منظر
پھولوں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا


تقدیر میں تھے ہی نہیں آرام کے لمحے
غربت میں کٹی عمر کبھی گھر نہیں دیکھا


شاید کوئی دیوانہ نہیں آج سر راہ
ہاتھوں میں کسی طفل کے پتھر نہیں دیکھا


کترا کے گزر جاتی ہے جس در سے مسرت
نادار کا تم نے کبھی وہ گھر نہیں دیکھا


موجوں کے تھپیڑوں سے نہ ہوگا کبھی واقف
جس نے کبھی دریا میں اتر کر نہیں دیکھا


تھیں منزل فردا کی طرف میری نگاہیں
ماضی کی طرف میں نے پلٹ کر نہیں دیکھا


معصومؔ کہوں کس سے محبت کا فسانہ
اک خواب تھا جو میں نے مکرر نہیں دیکھا