جہاں میں ہوں وہاں حالات کا منظر نہیں بدلا
جہاں میں ہوں وہاں حالات کا منظر نہیں بدلا
وہی ہیں چاند تارے رات کا منظر نہیں بدلا
اسی انداز سے گرتی ہے بجلی آشیانے پر
ہوا گستاخ ہے برسات کا منظر نہیں بدلا
اگر بدلا ہے کچھ کچھ جسم و جاں کا روپ باہر سے
وہی ہے روح میری ذات کا منظر نہیں بدلا
ہزاروں لوگ اب بھی ہاتھ پھیلائے ہیں سڑکوں پر
ہمارے شہر میں خیرات کا منظر نہیں بدلا
کنولؔ اک مہرباں نے دی تھی جو مجھ کو محبت میں
خدا کا شکر اس سوغات کا منظر نہیں بدلا