ہوا کے مد مقابل رہا کسی کے لیے
ہوا کے مد مقابل رہا کسی کے لیے
میں وہ دیا ہوں جو شب بھر جلا کسی کے لیے
ہمارے واسطے کوئی دعا کرے نہ کرے
ہمارے پاس نہیں بد دعا کسی کے لیے
ہوا کے خوف سے مت بیٹھ گھپ اندھیرے میں
جلائے جا تو دیے پر دیا کسی کے لیے
بچا کے شمع دل و جاں میں کس لیے رکھتا
میں جل گیا سر راہ وفا کسی کے لیے
نہ جانے آپ کا میزان عدل کیسا ہے
کسی کو حکم رہائی سزا کسی کے لیے
بہت بہانے تھے بجھنے کے واسطے کوثرؔ
مگر میں خود کو جلاتا رہا کسی کے لیے