ایک بھی ناؤ نہ کاغذ کی ترانے دے گا

ایک بھی ناؤ نہ کاغذ کی ترانے دے گا
وہ کوئی جھوٹھا بہانہ نہ بنانے دے گا


میری آنکھوں میں وہ آنسو نہیں آنے دے گا
بات رکھ لے گا مری بات نہ جانے دے گا


وہ تو بادل ہے بھگو دے گا برس کر من کو
وہ خیالوں کی پتنگیں نہ اڑانے دے گا


جانتی ہوں وہ پلٹ آئے گا موسم کی طرح
گزرے موسم کی طرح درد پرانے دے گا


خوب آتا ہے اسے دل کی تلاشی لینا
وہ مجھے راز محبت نہ چھپانے دے گا