دل کی لگی سے اکسیر ہونا
دل کی لگی سے اکسیر ہونا
اک ہاتھ چاندی اک ہاتھ سونا
لطف تو جب ہے وہ خود نوازے
کہا بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا
پھر بے رخی ہے اور عارضی ہے
کفر سراسر مایوس ہونا
بیٹھنا اٹھنا نظم و ادب سے
عین عبادت ہے ان کا ہونا
عشق کا مسلک صاف دلی ہے
رسم نمائش دامن کو دھونا
انجمن آرائیوں کے لیے اب
فرض نہیں ہے ان کا بھی ہونا
مانیؔ کو بیعت ہے اک صنم سے
کجلائی آنکھیں رنگ سلونا